پاکستان

جب سرحدیں ہماری راہ میں حائل نہیں ہوتی تھیں

جب عمر بن الخطاب مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے موجودہ دور کی 22 ریاستوں پر حکومت کرتے تھے !جب ولید بن مروان کی افواج مشرق میں دیوار چین سے مغرب میں فرانس تک سیاہ و سفید کی مالک تھیں!جب ہارون الرشید تین چوتھائی ایشیاء کو اپنی مٹھی میں رکھ کر بادلوں سے بات چیت کیا کر تے تھے!جب معتصم با للہ عموریہ کو تہ وبالا کرنے کے بعد بلغاریا کی سرحدوں کو پامال کر رہا تھا !جب صلاح الدین صلیبیوں کی کمر توڑ کر بیت المقدس کو آزاد کر نے بعد مسکرایا کرتا تھا !جب قطز نے تاتاریوں کا قصہ تمام کر کے دنیا کو ان کی شر سے بچا کر سب کو حیران کر دیا !جب عثمانیوں نے صلیبیوں کی سب سے بڑی سلطنت بیزنطینی امپائر کو دنیا کے نقشے سے مٹا کر آدھے یورپ کو اپنے ماتحت کیا !جب سرحدیں ہماری راہ میں حائل نہیں ہوتی تھیں تو ہم دنیا پر حکمرانی کرتے تھے. ایک مسلمان قرطبہ سے بغداد اور مراکش سے مکہ سفر کرتا کوئی اس سے ویزہ اور پاسپورٹ کے بارے میں نہیں پوچھتا!پھر جب ہمیں سرحدوں میں بند کردیا گیا، ہمیں قومی ریاست، قومی پرچم، قومی ترانہ، قومی زبان اور قومی حکومتیں دی گئیں، تو ہم تو ان سرحدوں کے اندر ایسے ہو گئےجیسے کوئی جانور پنجرے میں بند ہو جاتا ہے. ہم جب ان سرحدوں سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ دراندازی ہے. ہم نے ساری دنیا کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے. لیکن جب دشمن انہیں سرحدوں کو پامال کرکے ہمیں اپنے ڈروں اور بموں سے مارتا ہے تو اس کے ایجنٹ اس کو عالمی برادری سے تعاون قرار دیتے ہیں. پھر یہ کہتے ہیں کہ دنیا ایک گلوبل ولیج ہے، ہم دنیا سے تعاون کیے بغیر نہیں رہ سکتے. جب یہ بات ان کو سمجھائی جاتی ہے کہ دنیا تو ایک گلوبل ولیج ہے سارے مسلمانوں کو اکھٹا ہونا چاہیے تو وہ اس کو انتہا پسندی قرار دیتے ہیں. خود ہزاروں کلو میٹر دور دشمن کے ساتھ اتحاد قائم کرتے ہیں، اس کی جنگ کو اپنی جنگ کہہ کر لڑتے ہیں مگر اپنے بازو میں مسلمانوں مارتے بھی ہیں اور مرواتے بھی ہیں. کیا یہ کہنا مناسب نہیں کہ دنیا گوبل ولیج بن چکی ہے اس لیے مسلمانوں کو بھی اب ایک ہونا چاہیے!!

تحریر اسد منظور

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button