صحت

بچوں کی نشورنما کیا ھے ؟

معاشرے میں اس کے اوپر سٹریس کم اثر ھوتا ھے

بچے کو کس طرع ذہنی امراض لاحق ھونے کا خطرہ ھوتا ھے۔

کس طرع سے کن ذہنی امراض کی طرف سے بچانے کے لیٕے اس کی شخصیت اہم ھوتی ھے۔ اور اس کی جو مکمل ذمہ داری ھوتی ھے۔ وہ ماں اور باپ کی ھوتی ھے۔

اب یہ کہ بچے کا بچپن کس طرع کے ماحول میں گزرتا ھے۔ اگر وہ ایک اچھے ماحول اور اچھے ادارے میں وقت گزرتا ھے تو اس میں خود اعتمادی پیدا ھوگی اس کی شخصیت میں اور ایک بھرپور شخصیت ھوگی۔
اور اس کے اندر زمانے کو سمجھنے کی چیلنج کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ پیدا ھوگی ۔ اس طرع سے انسان کے اوپر جب ذہنی دباو آتا ھے۔ سٹریس آتا ھے۔ تو اس کا جو ری ایکشن ھے۔ کہ اس کے اوپر کس طرع کا ردعمل ظاہر کرے گا۔وہ بھی سارا انسان کی شخصیت پر ھوتا ھے۔

اگر اس کی شخصیت سٹرونگ ھوگی تو وہ بہتر طور پر اس میں سے نکل آے گا۔ یا نکل سکتا ھے۔ اگر اس کی شخصیت کمزور ھوگی یا اس میں کچھ بنیادی کمزوریاں ھوگی۔ تو اس دباو سٹریس سے اس کا نکلنا نامکمن ھے۔ اور پھر جو ناکامی اسے ھوگی اس وقت وہ اسے ذہنی امراض کی طرف لے جاے گی۔

یہ ایک بہت اہم فیکٹر ھوتا ھے۔ جس پر ماں باپ کو بہت توجہ دینا کی ضرورت ھوتی ھے۔ کہ بچے کو کس طرع کا ماحول دیا جاے۔ کیسے اسے ہینڈل کیا جاے۔ اب مثال کے طور پر ہر ماں باپ چاہتا ھے کہ اس کے بچے کی ہر خواہش پوری ھو۔ جو بات وہ منہ سے نکالے وہ پوری کی جاے۔ اب والدین کے وساہل ھو یا نا ھو۔ لیکن ہر بندےکی یہ کوشش اور خواہش ھوتی ھے کہ میرے بچے نے مجھ سےمانگا ھے اس کی خواہش کو پورا کیا جاے۔

کیونکہ کہ ایک عام سی بات ھے۔ وہ کہتا ھے بچوں کو روٹی دینا ۔ اس کے مساہل کو حل کرنا۔ اس کی ہر بات کو ماننا جو ھے۔ وہ بچے کی صحت پر انتہای منفی اثر کرتا ھے۔ ھوتا کیا ھے۔ بچہ جو بات منہ سے نکالتا ھے وہ پوری ھوجاتی ھے۔

تو والدین کی زندگی جوھے۔ وہ بچوں کے گرد گھوم رہی ھوتی ھے۔ مثال کے طور پر جب بچہ پہلے سال ماں کا دودھ پیتا ھے۔ جب بچہ رونے لگتا ھے ماں اسے فورا دودھ دے دیتی ھے۔ کیونکہ بچے کے پاس اظہار صرف رونا ھوتا ھے۔ وہ ایک ہی آواز نکال سکتا ھے۔

تو ماں کہتی ھے جب یہ رویا ھے تو اسے بھوک لگی ھے۔ دودھ مانگ رہا ھے۔ تو وہ اسے فورا دودھ پلانا شروع کر دیتی ھے۔ تو اس سے بچہ کی جسمانی صحت پر برا اثر پڑتا ھے۔ اہم یہ ھے کہ بچے کو بچپن میں کس طرع کا ماحول میں زندگی گزرتا ھے۔ تو اگر وہ اچھے ماحول اور ادارے میں زندگی گزرتا ھے۔ تو اس کی شخصیت ایک خود اعتمادی سے بھرپور ھوگی۔ تو ماہرین کہتے ھے۔ ایک وقت ھو دودھ پلانے کا دو گھنٹے یا آدھا گھنٹہ بعداسے پلاے۔ اس طرع سے الگ الگ وقت مقرر ھو۔ اور اس طرع سے وہ ذرا سا روتا ھے ماں اسے دودھ پلا دیتی ھے۔

تو آگے چل کر وہ کہتا ھے۔ کہ میری ہر ضد پوری کی گی ھے۔ اس چیز سے بچے میں فسٹ سٹریشن سے لڑنے کی طاقت کم ھوجاتی ھے۔ بچے کے ذہن میں یہ چیز بیٹھ جاتی ھے ۔ جس چیز کی خواہش کا میں اظہار کرو گا۔ وہ پوری ھوجاے گی۔اور ہر چیز اس کی مرضی کے مطابق چلے گی۔

اب یہ چیز جو ھے جو مڈل کلاس کےلوگ ھے۔ یا جو غربت کی لاہن کے نیچے لوگ ھوتے ھے۔ تو ان کے بچوں میں ایک ٹورنس پیدا ھوتی رہتی ھے۔ کہ ان کو چزیں نہیں ملتی۔

قدرت نے جونظام بنایا ھے اس میں توازن اور عدل چاہیے ھوتا ھے۔ جو خواہشات ھے اس میں بیلنس چاہیے۔ کوی خواہش بچے کی پوری نا ھو تو اس میں یہ ھوتا ھے۔ کہ اسے پتا چلتا ھے جو ہر بات میں کہو گا وہ پوری نہیں ھوگی۔

جب وہ اگلی زندگی میں جاتا ھے۔ تو اس کی بہت سی خواہشات ھوتی ھے۔ مجھےدولت چاہیےایسی جاب چاہیے۔ تو پہلے سے اس کی جو نشورنما ھوی ھوتی ھے۔ کہ ہر بات انسان کی خواہش کے مطابق پوری نہیں ھوتی۔ وہ ٹورنس ھوتی ھے۔ فسٹ سٹریشن کے مقابلے میں ایسا بندہ اچھی زندگی گزرتا ھے۔ معاشرے میں اس کے اوپر سٹریس کم اثر ھوتا ھے-

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button