پاکستان

ہمیں آگے جانا ہے یا پیچھے تحریر: سید شاہ میر علی

آپ نے اکثر سنا ہوگا پاکستان دنیا سے 10 15 سال پیچھے چل رہا ہے مطلب دنیا جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ہوتی جارہی لیکن ہم دنیا سےپیچھے ہیں. مجھے اس بات کا دکھ نہیں کہ پاکستان پیچھے ہےبلکہ خوشی ہےپاکستان ابھی بےحیائی میں دنیا سے پیچھے ہے. ہمارےملک میں اب بھی ‏اسلامی تہذیب موجود ہے. چند دن پہلے خیبر پختونخواہ حکومت نے خواتین طالبہ کے لیےبرقہ اور پردہ لازمی قرار دیا تو ہمارےلبرلز اور موم بتی مافیا جاگ اٹھے اور اس فیصلہ کی خوب تنقید کی. جی ہاں، یہ وہ ہی لبرل مافیا ہے جو ابھی کشمیر میں انسانیت کےقتل پر سو رہی تھی. لیکن ایک اسلامی تہذیب کے ‏نفاز پر یہ لوگ ایسے جاگ گئے جیسے حکومت نے دہشتگردی کی اجازت دے دی ہو یا پھر اور کوئی بہت بڑی غلطی کردی ہو. اور ان لبرلز کی تنقید کے سامنے ہماری حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور پھر وہ فیصلہ واپس لے لیا. یہ انتہائی شرمناک شکست تھی حکومت کی. کیا لبرلز اس حکومت سےزیادہ طاقتور ہیں. پاکستان ‏ایک اسلامی ریاست ہے. پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہونا چاہیے. لیکن ہم مغربی روایت کی طرف زیادہ متوجہ ہیں. عمران خان نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کی سب نے حمایت کی اور جیسے ہی مدینہ والے اصول نافذ ہوئے تو سب کو تکلیف شروع ہوگئی. اسلام میں ‏عورت کو پردہ کا حکم ہے. لیکن یہ فیمنیسٹ اس کے خلاف ہیں. بقول ان کے عورت کیسے بھی کپڑے پہنے مرد ان کو گھورتے ہیں. یہ قطعاً غلط ہے. ایسا بلکل نہیں ہاں چند کچھ انسانی شکل کے درندے ہیں جو ایسی گھٹیا حرکات کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہے. اگر عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے تو کوئی نہیں ‏گھورتا انہیں بلکہ عورتوں کے باپردہ ہونے پر مرد بھی اپنی آنکھوں کا پردہ کرتے ہیں. اب اگر عورتیں چھوٹےچھوٹےکپڑوں میں گھروں سے نکلیں تو تقریباً ہر شخص اسےگھورے گا، ہمیں اگر پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانا ہےتو پھر ہمیں مدینہ والے اصول بھی لاگو کرنے ہونگے. اور یہ کام ہمیں خود کرنا ‏ہے. اور اس کے لیے ہمیں آگے نہیں پیچھے جانا ہوگا. اگر ہم دنیا کی طرح آگے گئے تو پھر آگے صرف فحاشی اور بے حیائی ہے. ہمیں اب ہمیں واپس پیچھے جانے کی ضرورت ہے. پردہ عورت کی کمزوری نہیں بلکہ ایک پروٹیکشن ہوتی ہے. اگر آپ تحقیق کریں تو آپکو ایسی خواتین انجینیرز ڈاکٹرز اور سائنٹسٹ بھی ‏‏ملیں گی جنہوں نے باپردہ ہوکر اپنے خواب پورے کرے. اب وقت ہے ان لبرل مافیا اور موم بتی مافیا کو چپ کرنے کا جو پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنا چاہتے ہیں اور مغربی روایت نافذ کرنا چاہتے ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر بنا اب پاکستان میں اسلامی ریاست بنانا ہوگا. بس اب بہت ہوا.

تحریر: سید شاہ میر علی

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button