بلاگز

ضلع بھکر جنوبی پنجاب کےمسائل اور حکومتیں

ضلع بھکر جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں شامل ہے جہاں آج کے اس جدید دور میں بھی یہاں کے باسی بنیادی ضروریات جیسا کے صحت ،تعلیم ، اور تفریح جیسی نعمتوں سے محروم اور 70 سال سے لاہور اور اسلام آباد کی جانب نگاہیں لگائے منتظر ہے کے شاید کوئی مسیحا ان مسائل پے انکی داد رسی کرے گا کیوں کے یہاں پے اکثریت ووٹ شخصیتی بنیاد پے ڈالا جاتا ہے سب سے بڑا سیاسی دھڑا نوانی گروپ ہے اور اسکے مد مقابل اینٹی نوانی گروپ میں کئی گروپ شامل ہو کے نوانی گروپ کا مقابلہ کرتے ہیں سب سے بڑی الجھن یہ ہے کے نوانی ہوں یا انکے اینٹی گروپ دونوں ہمیشہ سے آزاد حیثیت سے الیکشن میں لڑتے آئے ہیں اور وفاق میں جس کی حکومت بنتی ہے جیتنے والے اسکی گود میں جا بیٹھتے ہیں ! جسکی وجہ سے وفاق میں بننے والی حکومتوں کو یہاں سے بآسانی منتخب نمائندے دستیاب ہوتے ہیں جسکی وجہ سے کبھی وفاق نے اس ضلع کو کوئی ایسا بڑا پراجیکٹ نہی دیا جس سے عوام کو سکھ کا سانس لینا پڑے حال ہی میں "تھل یونیورسٹی” کی نوید سنا کے جو گروپ اقتدار میں آیا وہ بھی میانوالی شفٹ ہو گئی ، صحت کا حال یہ ہے کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں ابھی تک ICU جیسا بنیادی یونٹ نہی بن سکا جسکی وجہ سے اکثر حادثات میں زخمیوں کو ملتان یا فیصل آباد شفٹ کر دیا جاتا جسمیں اکثریت راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں ، تعلیم کا حال بھی کچھ اس سے مختلف نہی ، صفائی ستھرائی کی ابتر صورتحال ہے ٹی ایم اے میں سیاسی بنیادوں پے بھرتی ہونے والوں کی اکثریت کی وجہ سے حاضری نہ ہونے کے برابر ہے اکثر ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں بٹور رہے ہیں جس سے قومی خزانے کو چونا لگنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بیماریوں اور بے چینی الگ سے ہے ، حکومت پاکستان سے گزارش ہے کے ہم سترہ لاکھ عوام کے اضلاع کو ان دیکھا نہ کریں اور خدارا ہمیں پاکستانی سمجھتے ہوئے ہمیں کم از کم غیر ضروری نہ سہی بنیادی ضروریات ہی دے دی جائیں کیوں کے عوام کو منتخب نمائندوں سے کوئی امید نہیں رہی۔

تحریر: حسنین مغل

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button