بلاگز

ذہنی غلام بنانے والا تعلیمی نظام اور پاکستان

آج کل کے ماحول کو دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم پہلے ایسے تو نہ تھے آخر ایسا کیا ہوا ہے کے جوں جوں سال گزرتے جارہے ہیں اسی طرح ہم پستی کی طرف جارہے ہیں دن بدن اخلاقی گراوٹ ہوتی جارہی ہے چھوٹے بڑے کی تمیز بھول چکے ہیں ہم اچھائی برائی کی تمیز ختم ہوگئی ہے حرام حلال کو جانتے ہوے بھی آنکھیں بند کی ہوتی ہیں ہمنےایک نشست ہوئ میری رانا نادر علی کے ساتھ رانا نادر علی ایک کالم نگار ہیں شائر بھی ہیں اور حالات حاضرہ پر انکی بڑی گہری نظر ہوتی ہےہمنے گرتی ہوئی اخلاقی گراوٹ پر کافی بحث کی اور اس نتیجے پر پہنچے کے اسکی بنیادی وجہ ہمارا تعلیمی نظام اس قدر بوسیدہ ہوچکا ہے کے اسے اب کوئی کرشمہ ہی ٹھیک کر سکتا ہےآئیں اب ہم اس پر روشنی ڈالتے ہیں90 کی دہائی سے پہلے جو تعلیمی نظام تھاوہ کافی بہترین نظام ہوا کرتا تھا طالب علم کو جستجو ہوتی تھی کے وہ پڑھ لکھ کر ایک قابل انسان بنے ڈاکٹر بنے استاد بنے سائنسدان بنے پولیس والا بنے فوجی بنے جس سے اسکی ایک الگ پہچان بنے اس طالب علم کو چھوٹے بڑے کی تمیز ہوا کرتی تھی وہ جتنی عزت اپنے گھر کے بڑوں کی کرتا تھا اتنی ہی عزت آس پڑوس کے بزرگوں کی بھی کرتا تھا پہلے تعلیم کا زمیداری حکومت پر ہوتی تھیصحت کی سہولیات بھی حکومت کی جانب سے ہوتی تھی اسی دہائی میں ایک نیا تعلیمی نظام متعارف ہوا انگلش میڈیم جو پرائیویٹ سیکٹر لیکر آیا اس نظام نے شروع میں سادہ عوام کو بیوقوف بنانا شروع کیا اور سہانے خواب دکھانا لگے اور دن بدن یہ نظام ترقی کرتا رہا اور حکومت کا تعلیمی نظام بربادی کی طرف جانے لگا آج یہ پرائیویٹ سیکٹر پوری طرح سے تعلیم پر قابض ہوگیا ہےاور اس نظام کو بھرپور مدد حاصل ہے اجکے نا نظر انے والے ہاتھوں سےایک مقدس پیشہ آج ایک بہترین کاروبار کی شکل اختیار کرگیا ہے اور کاروبار میں تعلیم صرف ڈگریوں تک محدود ہوگئی ہے عملی طور پر تعلیم نا ہونے کے برابر ہوچکی ہے اس تعلیمی نظام نے نقل متعارف کروائی اس تعلیمی نظام نے چھوٹے بڑے کی تمیز ختم کردی اس تعلیمی نظام نے اخلاقی گراوٹ بڑہادی اس تعلیمی نظام کا سچ دیکھنا ہے تو آپ صرف یہ دیکھیں کے ہمارے اشرافیہ جو اس ملک کے کرتا دھرتا ہیں وہ یہاں علاج کروانا نہیں چاہتے کیونکہ کے آنہیں پتہ ہے کہ جو ڈاکٹر ہے وہ کتنا قابل ہےاسنے کتنی پڑھائی کی ہے وہ کسطرح سفارش سے ڈاکٹر بنا ہے اب ڈاکٹر سفارش سے بنا ہو اب اندازہ کریں کے وہ عام عوام کا کیا حال کرتا ہوگاہمارے ہر ادارے کا یہی حال ہے اج کسی بچے سے ہم پوچھیں کے بیٹا بڑے ہوکر کیا بنو گے تو زیادہ تر بچے کہتے ہیں میں امریکہ جائوں گا وہا نوکری کرونگا کوئی کہتا ہے میں کینیڈا جائوں گا وہاں نوکری کرونگاتو کوئی لندن میں جاکر نوکری کرنے کو ترجیح دیتا نظر آتا ہے یہ نظام آج کے طالب علم کو ذہنی غلام بنا چکا ہے اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی بندہ اگر نوکری ہی کرے تو اتنا ٹائم اتنے سال برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی ایک مقدس پیشہ آج کاروبار بن چکا ہے اس نظام کی بہتری کے لئے موجودہ حکومت نے ایک کوشش کی ہے لیکن اس سے جس مافیا کے پیٹ میں درد اٹھا ہے وہ پوری دنیا کے سامنے ہے 35 سے 40 سال لگے انہیں پاکستان کی عوام کو ذہنی غلام بنانے میں اور موجودہ حکومت انکی مہنت پر پانی پھیرنے جارہی ہے اور وہ یہ اتنی آسانی سے نہیں ہونے دینگےاجکے ماں باپ نے اگر آنکھیں نا کھولیں تو اس میں مزید بگاڑ پیدہ ہوگانئے نظام کے لئے حکومت کا ساتھ دیںپرائیویٹ سیکٹر سے جان چھڑائیں اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنائیں
مجھے امید ہے کہ ایک کرشمہ ضرور ہوگا جو ہمارے مستقبل کو محفوظ بنائے گا ورنہ اشرافیہ کے لئے تو ہم صرفِ غلام کی حیثیت رکھتے ہیں اور غلام کی زندگی موت سے بدتر ہوتی ہے

سردار ساجد محمود خان

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button