بلاگز

پینک اٹیک ڈس آرڈر کیا ھوتا ھے علامات کیا ھے

جب آپ کی گریپ لوز ہوتی ہے ۔ تو یہ باہر کواچھلتے ہیں ۔ جو انزائٹی ہے۔ پریشانی ہے

اس بیماری میں بھی شدید قسم کی انزاٹی کا دور آتا ہے ۔

اس کے نام سے ظاہر ہے۔ انسان شدید قسم کی گھبراہٹ میں مبتلا ہوتا ہے۔ شدید خوف اس کے اندر پیدا ہوتا ہے۔

کہ بس مجھے کچھ ہونے لگا ہے۔ کیا ہے۔ دل بند ہونے لگا ہے۔ فوری طور پر وہ ہسپتال بھاگے گا ۔ یا اس کے عزیز و اقارب فوری طور پر ہسپتال لے جائیں گے ۔ تو وہاں جا کر ای سی جی اور ٹیسٹ ہوں گے۔ تو اس میں یہ جو چیز ہوتی ہے۔ اسے جینزالائزر ڈس آڈر۔ یا دوسری چیزوں سے اس لیے الگ رکھتے ہیں۔ کہ یہ پینک ڈس آرڈر میں انزائٹی تو چل رہی ہوتی ہے۔ لیکن اکثر اوقات وہ بالکل ٹھیک ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ کوئی علاج نہیں کرا رہا ہوتا۔ تو ایک دم سے بیٹھا ہے۔ دوسرے کے ساتھ یا فیملی کے ساتھ ہی گپ شپ کر رہا ہے۔ ٹی وی دیکھ رہا ہے ۔کوئی کام کر رہا ہے۔ایک دم سے اس کے اندر ایک چیز اٹھے گی۔ کہ مجھے کچھ ہونے لگا ہے۔

پینک اٹیک میں ایک دم سے اوپر کی طرف آتی ہے سوچ ۔ اس میں شیپ لائز انجکشن دیئے جاتے ہیں۔ اور جو دل کی دھڑکن ہے۔ اس کو کام کرنے کے لیے دوائیاں دی جاتی ہیں۔ جو باقی کفیات اس میں ہو رہی ہوتی ہیں ۔لیکن خاص بات اس میں جو ہوتی ہے۔ پینک ڈس آڈر میں مریض کو بار بار مطلب کبھی ہفتے میں پندرہ دن میں ایک ماہ بعد اسے یہ اٹیک ہوتا ہے ۔ اور ہر دفعہ اسے ہسپتال لے کر جایا جاتا ہے ۔ تو پھر اس کے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ اب اس کی خوش قسمتی ہوتی ہے۔ کہ وہ سائیکیٹرسٹ کے پاس ریفر ہو جائے۔ ورنہ عام ڈاکٹرز انزاٹی کی دوا دیتے رہتے ہیں ۔آرام تو اسے بھی آ جاتا ہے۔ لیکن اس سے ہوتا کیا ہے۔ کہ ایک سائیکیٹرسٹ ڈس آرڈر ہے۔ تو بہتر یہ ہوتا ہے۔ کہ سائیکیٹرسٹ ڈس آرڈر کا علاج بھی ماہر نفسیات ہی کو کرنا چاہیے۔ پھر ماہر نفسیات کو اس کی تہہ میں جانا ہوتا ہے ۔ کہ اسے یہ مسئلہ ہو رہا ہے۔ اس کی شاخ کہاں ہے۔ تو جب ہم اس کی تہہ میں جاتے ہیں۔ تو کچھ نہ کچھ ہمیں کوئی ایسی چیز مل جاتی ہے۔ جہاں سے وہ انزائٹی پھوٹ رہی ہوتی ہے۔ مریض اپنے رویے سے جو اس کے اندر انزائٹی ہوتی ہے۔ اس کو دبا رہا ہوتا ہے۔ اسے دبا کر رکھا ہوتا ہے ۔ یا دوائی کی وجہ سے وہ سپرینگ کی طرح ہو جاتی ہے۔

جب آپ کی گریپ لوز ہوتی ہے ۔ تو یہ باہر کواچھلتے ہیں ۔ جو انزائٹی ہے۔ پریشانی ہے۔ خفی ہے ۔ وہ اس کے اندر ایک دم سے پھوٹتی ہے۔ لیکن خاص بات یہ ہوتی ہے ۔ کہ آپ فوری ہمیں کوئی وجہ نظر نہیں آرہی ہوتی ۔ مریض بھی یہی کہتا ہے۔ کہ مجھے تو کوئی پریشانی نہیں تھی ۔ ایک دم سے یہ ہوگیا۔ تو اگر مریض کو ایسا ہو رہا ہے ۔تو اسے سائیکیٹرسٹ کے پاس جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button