پاکستان

پاکستانی جمہوریت کے علمبردارسیاستدان اور مارشل لاء

جمہوریت سے مراد حکومت کی ایسی حالت جس میں عوام کا منتخب نمائندہ حکومت چلانے کا اہل ہوتا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کی تعریف کچھ اس طرح کہ عوام کے ووٹ چھین کر اقتدار میں آؤ، مال بناؤ اور پھر پانچ سال بعد ملک سے فرار ہو جاؤ۔
پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں جمہوری نظام ہے۔ پاکستان میں بہت بڑی تعداد اس نظام کے حق میں ہے اور اس سے بھی بڑی تعداد اس نظام کے خلاف ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور اس کی آبیاری بھی اسلامی اصولوں کے مطابق کرنی چاہیے تھی لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔
پاکستان کا جمہوری سفر نہایت دشوار گزار تھا، سیاستدانوں اور جرنیلوں نے مل کر ملک میں پیچیدگیوں کو ہوا دی جس سے پاکستان آغاز سے ہی عدم استحکام کا شکار رہا۔ 1956 کا آئین بھی انتھک محنت کے باوجود صرف 2 سال 7 ماہ ملک میں نافذ رہا اور پھر مللکی معاملات میں فوج کی انٹری ہوئی اور اکتوبر 1956 کو اسکندر مرزا نے مارشل لاء نافذ کردیا اور یو ملک میں جمہوریت کا پہلا قتل عام ہوا۔ یاد رہے پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں 51 سال فوج نے حکومت کی اور صرف 20 سال سیاستدانوں کو ملے۔
اب ایوب خان کی بات کرتے ہیں جنہوں نے 10 سال پاکستان پر حکومت کی۔ ایوب خان نے سیاستدانوں کو خوب اپنی امریت کا نشانہ بنایا۔ ایوب دور میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد تھی، سیاسی جماعتوں کے دفاتر بند کر دیے گئے اور اکاؤنٹ منجمد کر دیئے گئے۔ ایوب خان کا خیال تھا کہ پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ سیاستدان ہیں اور ملک کی گیارہ سالہ تاریخ میں جو عدم استحکام رہا اس کی وجہ سیاستدان ہیں، حالانکہ ان برسوں میں اختیارات افسر شاہی کے ہاتھوں میں تھے اور خود فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ایوب خان نے افسر شاہی کے حلیف کا کردار ادا کیا تھا۔ ایوب خان نے نے اپنے دور میں 1962 کا آئین بھی معتارف کروایا جو صدارتی طرز کا تھا۔ یہ آئین معروف جمہوری اصولوں سے متابعت نہیں رکھتا تھا۔ اس آئین میں آمرانہ پہلوؤں کی وجہ سے ملک کے سیاسی حلقوں نے اسے مسترد کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہی مارشل لاء ہٹا دیا گیا اور ایوب خان فوج سے ریٹائر ہو کر سویلین صدر بن گئے۔ اس کے بعد 1964 میں ملک میں صدارتی انتخابات منعقد ہوئے جس میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا امیدوار بنایا لیکن انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ایوب خان نے اپنے دس سالہ آمرانہ دور میں پاکستان کے لیے کچھ اچھے کام بھی کیے لیکن وہ سخت گیر امر تھے۔ ایوب خان کا دور حکومت اپنے زوال کی طرف جارہا تھا کہ اس دوران ایک سیاسی جماعت پیپلز پارٹی وجود میں آئی جس کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے نومبر 1967 کو رکھی۔ بھٹو ایوب دور میں پاکستان کے وزیر خارجہ تھے اور ایوب کے ساتھی تھے لیکن جب بھٹو نے ایوب خان کا زوال دیکھا تو نظریں چرا لی۔ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ سکندر مرزا کو ایوب خان نے دھوکا دیا اور ایوب خان کو بھٹو نے اور بھٹو کو جنرل ضیاء الحق نے دھوکا دیا۔
پیپلز پارٹی نے عوام میں سماجی انصاف اور غریب پروری کا منشور دیا۔ وقت گزر رہا تھا اور پی پی عوام میں مقبول ہوتی جا رہی تھی ادھر ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء کو نافذ کرنے اور خود اپنے دستور کو کلعدم قرار دینے کا اقدام اٹھایا اور 25 مارچ 1969 کو اقتدار فوج جنرل یحیٰی خان کے سپرد کر دیا۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں جرنیلوں اور سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو اقتدار کی کرسی کے لیے استعمال کیا ہے۔
اب ایوب خان کے آمرانہ دور کے احتتام کے بعد ایک اور جرنیل نے 3 سال ملک میں حکومت کی اور 20؛دسمبر 1971 کو رخصت ہوئے۔ ان کے دور حکومت میں پاکستان دولخت ہوا۔ ان کے دور حکومت میں پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوئے کہا جاتا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے شفاف ترین انتحابات تھے۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی برسر اقتدار میں آئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آئین دیا اور بہت سے فلاحی کام کیے۔ ان کا دور جولائی 1977 تک جاری رہا. اج کل کہا جاتا ہے کہ پی پی ایک جمہوری جماعت ہے لیکن یاد رہے کہ بھٹو دور کی سب سے بڑی کمزوری ملک میں جمہوری کلچر کے قیام میں ناکامی تھی۔ حزبِ اختلاف کے ساتھ ان کا رویہ جارحانہ رہا۔ بھٹو دور حکومت میں مخالف اخبارات و جرائد کے خلاف بھی سخت گیر کاروائیاں کیں گی۔
میرے نزدیک بھٹو ایک جمہوری لباس میں ملبوس سخت گیر ڈکٹیٹر تھے۔ بات یہاں تک نہیں بھٹو نے 3 فروری 1973 میں بلوچستان کی منتخب صوبائی حکومت کے بعد وہاں کیا جانے والا فوجی آپریشن تھا جس کے بعد فوج کا سیاست میں ملوث ہونے کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔
سیاستدان اپنے مقاصد کے لیے فوج کو سیاست میں گھسیٹے ہیں اور جب مطلب پورا ہوتا ہے تو انہیں متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ہے کی نام نہاد جمہوریت۔

اس کے بعد 1977 کے عام انتخابات نے ملک ہو افراتفری کی جانب دھکیلا جس کے بعد 4 5 جولائی کی درمیان رات کو فوج نے جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
بھٹو معزول کر دیے گئے اور دستور معطل کر دیا گیا اور پاکستان میں تیسری بار مارشل لاء نافذ کردیا گیا۔
اور پھر یو شروع ہوا ضیاء الحق کا دور شروع ہوا جس میں جمہوریت تیتر اور امریت بٹیر تھی۔
ضیاء الحق نے 90 دن کے اندر انتحابات کروانے کا شوشا چھوڑا لیکن ان کا اقتدار طویل ہوتا گیا اور یو پاکستان نے امریت کے 11 سال اور جھیلے۔ اس دوران 1981 میں سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریکیں چلائی اور جنرل ضیاء پر دباؤ ڈالا۔ یاد رہے 30 دسمبر 1985 کو ضیاء نے اس شرط پر مارشل لاء ہٹا دیا کہ وہ صدر کے علاوہ بری افواج کے سربراہ کے منصب پر فائز رہے گے۔اس کے ساتھ ہی ضیاء کے وزیراعظم جنیجو کے ساتھ اختلافات شروع ہو گے اور پھر مئی 1988 میں جنرل ضیاء نے مذکورہ آرٹیکل 58 (2) بی کو استعمال کرتے ہوئے جنیجو حکومت کو ختم کر دیا۔
جنرل ضیاء الحق 17 اگست 1988 کو دنیا سے رخصت تو ہو گے لیکن آج بھی سیاست میں ان کا نام پوائنٹ اسکورنگ کے لیے لیا جاتا ہے۔ خیر اس کے بعد سویلین دور شروع ہوتا ہے بھٹو کی بیٹی بینظیر سیاست میں قدم رکھتی ہیں اور ادھر ضیاء الحق کی کوک میں پلنے والا نواز شریف بھی سیاست میں جلوا گر ہوتا ہے یا یو کہ لیں بھٹو اور ضیاء پھر سے زندہ ہو کر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں۔
1988 کے آخر میں ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے جس میں پیپلز پارٹی بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری۔ مگر کیا کہنے جمہوری دور میں اختلافات شروع ہو گئے اور یہ اختلافات صدر غلام اسحاق خان اور بینظیر بھٹو میں ہوئے جس میں فوجی قیادت نے صدر پاکستان کا ساتھ دیا اور پھر ایک منتخب وزیراعظم کو کرسی اتار دیا گیا اور پھر ضیاء الحق کے فرزند کو وزارت اعظمی پر بیٹھا دیا گیا۔
لیکن یہ بھی کچھ عرصہ ہی چلا اور پھر 18 اپریل 1993 کو صدر غلام اسحاق خان نے آئین کی شق 58 (2) بی کو استعمال کیا اور نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔
مگر نواز شریف نے عدالت کی طرف رجوع کیا اور پھر سپریم کورٹ نے صدر کے اسمبلی توڑنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے دیا، اور نواز شریف کی حکومت بحال ہو گی، مگر جمہوری دور تھا اور اقتدار کے لیے کرسی کے پائے توڑنا لازمی ہوتا ہے، یہاں صدر نے ہھر نواز حکومت کو چلنے نہیں دیا اور ہو پھر فوج کو جمہوری کردار ادا کرنے پر مجبور کیا گیا اور فوج کے کہنے پر دونوں حضرات کو اپنی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑے۔
لیکن ایک بار پھر ملک میں انتحابات ہوئے جس میں بینظیر نے کامیابی حاصل کی اور صدر کے عہدے کے لئے فاروق لغاری منتخب ہوئے۔ لیکن پھر سے وزیراعظم اور صدر کے درمیان اختلافات شروع ہو گئے۔ اور پھر یو ہوا کہ 5 نومبر 1996 کو بینظیر کی دوسری حکومت معزول کر دی گئی اور پھر نام نہاد جمہوریت کی ریل پیل پر نواز شریف 17 فروری 1997 کو دوسری بار صدر منتخب ہوئے، معاملات یہاں بھی نہیں سلجے اور اختلافات شروع ہو گئے لیکن اس بار نواز نے اپوزیشن لیڈر بینظیر کے ساتھ مل کر دستور کے آرٹیکل 58 (2) بی کو منسوخ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
لیکن اس کے بعد نواز شریف کے فوج کے ساتھ اختلافات شروع ہو گئے اور پھر 12 اکتوبر 1999 کو جنرل مشرف نے نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کر دیا اور یو جمہوریت کا خاتمہ ہوا اور آمریت کا دوبارہ آغاز ہوا۔
دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے تھے اور مشرف نے مارشل لاء لگانے کی بجائے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اقتدار سنبھالنے کا اعلان کیا۔
یاد رہے مشرف دور میں پاکستان کے تعلیمی اداروں میں خوب اسلامی تعلیمات دی گئی لیکن پاکستانی قوم کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ فوج ہمیشہ وہ اقدامات کرتی ہے جو عوام میں مقبول ہو اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔
مشرف نے ضیاء الحق کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے ریفرنڈم کے ذریعے خود کو پانچ سال کے لیے صدر منتخب کروا لیا۔۔
مشرف تقریباً 9 سال پاکستان پر حکومت کی اس میں انھوں نے اچھے کام بھی کیے لیکن جاتے جاتے وہ کچھ غلط کر گئے۔
ایک طرف ان کی عوام میں مقبولیت کم ہو رہی تھی اور دوسری طرف ملک بدر بینظیر کی واپسی ہو رہی۔
ملک اس وقت دہشتگردی کی لپیٹ میں تھا اور حالات کافی پیچیدہ تھے مگر ایک جمہوری کی بحالی کے لیے سیاسی جماعتیں کوشاں تھی۔
بینظیر وطن واپس پہنچ چکی تھی اور بھر پور عوامی طاقت کا مظاہرہ کر رہی تھی لیکن انہیں پتا نہیں تھا کہ انکی موت قریب آہ چکی ہے۔
27 دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں کسی نامعلوم شخص نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا اور یو پاکستان ایک بڑا نقصان ہو گیا۔
خیر مشرف کا دور حکومت ختم ہوا اور جمہوری دور کا آغاز ہوا۔
مئی 2008 کو پیپلز پارٹی برسر اقتدار میں آئی مگر اس بار وزیر اعظم گیلانی تھے اور صدر بینظیر کے شوہر آصف علی زرداری بنے۔
اب بات کرتے ہیں 2008 سے لے کر 2018 کے پاکستان میں جمہوریت کے۔ اس دوران پیپلز پارٹی وفاق اور سندھ میں برسر اقتدار آئی اور ن لیگ نے پنجاب کا اقتدار سنبھالا۔
ان دونوں پارٹیوں کے منہ سے لفظ جمہوریت سنو تو خون کھولتا ہے انھوں نے جمہوریت کے نام پر عوام کو لوٹا اور مغربی غلام میں کوئی کسر نہ چھوڑی بات یہاں تک نہیں بلکہ انھوں نے اداروں کو متنازع بنایا حلانکہ اس وقت پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر حالت جنگ میں تھا۔
خیر ادھر ایک اور سیاسی جماعت ابھر رہی تھی جس کا نام پاکستان تحریک انصاف تھا جس کی بنیاد عمران خان نے 25 اپریل 1996 میں رکھی تھی۔
پی ٹی آئی نے 30 اکتوبر 2011 کو مینار پاکستان پر جلسہ کر کے پاکستانی سیاست کا رخ موڑ دیا اور 2013 میں خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے خوب اقتدار کے مزے لوٹے اور عوام کا پیسہ کھایا۔
یہ جمہوریت کے نام پر دھبہ تھی جنہوں نے ذاتی مفادات کے لیے ملکی سلامتی تک کو بیچ ڈالا اور پاکستان کو دہشتگردی کا شکار کرنے میں پیش پیش تھی خیر وہ کہتے ہیں نہ ہر برائی کا انجام بھی ہوتا ہے۔
3 اپریل 2016 کو پاناما پیپرز منظر عام پر آنے اور انھوں نے پاکستان میں کھلبلی مچا دی۔
پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور انکی فیملی کا نام بھی اس میں آیا کہ کس طرح شریف فیملی نے پاکستان کا پیسہ لوٹا اور اسے غیر قانونی طریقے سے برطانیہ منتقل کیا۔
اب اس وقت اپوزیشن میں موجود اور موجودہ وزیراعظم عمران خان اس کیس کو سپریم کورٹ لے گئے اور خوب اچھالا میڈیا میں لیکن یاد رہے کہ عمران خان پاکستانی قوم کو شعور دیا کرپشن کیا ہوتی اور حکمران کس طرح ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر لے جاتے ہیں اور عیش کرتے ہیں۔
خیر انکو سزا بھی ہوئی لیکن پھر آزادی مل گئی کیونکہ جمہوریت ہے اور ہمارا عدالتی نظام مفلوج ہے جرنیلوں اور سیاستدانوں کے اگے۔
لیکن ان سب میں ہمیں انکے اصلی چہروں کی پہچان ہو گئی۔
لیکن اب اس سب کا تجزیہ کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کی تنزلی کے زمہ دار صرف جرنیل اور سیاستدان ہیں؟
جی ہاں بلکل! کیونکہ جرنیلوں نے جمہوریت چلنے نہیں دی اور سیاستدان نے اسے لوٹ کھسوٹ کے لیے استعمال کیا۔
اگر سیاستدان پاکستان سے اتنے مخلص ہوتے تو اقتدار کے لیے ا بیرونی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہ کرتے اور عوام کی فلاح پر توجہ دیتے نہ کہ لوٹتے اور ایک دوسرے سے نفرت کرتے اور نہ فوج کو سیاست میں ملوث ہونے دیتے۔
یہ سب اگر اتنی ہی بہلائی چاہتے تو پاکستان میں جمہوریت کی بجائے اسلامی نظام لاتے۔
لیکن کیوں لاتے انہیں مغربی آقاؤں کی غلامی جو کرنی تھی۔
فوج کی مداخلت سیاست میں کچھ کم ضرور ہوئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی کیونکہ اج بھی سیاسی جماعتیں ڈیل کے لیے جی ایچ کیو کا رخ کرتی ہیں، اور ساتھ ان اداروں کو متنازع بھی بناتی ہیں۔
خیر مجھے نہ جمہوریت سے نفرت ہےاور نہ آمریت سے بلکہ ان بیماریوں سے نفرت ہے جنہوں نے عارضی مفاد کے لیے ملک خداد کا یہ حال کیا ہے کہ پاکستان معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا خامی ؤ ناصر ہو آمین۔
تحریر؛ شبانہ

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button