بلاگز

بچوں کی تربیت اور جنسی سرگرمیاں

بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھے

انسانی نفسیات انسانی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے یا یہ کہہ لے زندگی کا دوسرا نام ہے

ہماری زندگی کے تین اہم خانے اور ان کی الگ الگ ضرویات حیاتیاتی ،نفساتی اور معاشرتی سب سے پہلے خانے میں لازمی ضرویات آجاتی ہے جیسے بھوک پیاس اور سیکس وغیرہ تو ہم بات کرے گے بچوں کی تربیت کا جنسی سر گرمیوں یا sexual life کا آپس میں کیا تعلق ہے آج کل جو معاشرے میں ریپ کے واقعات سامنے آ رہے ہے اس کی سب سے بڑی وجہ بچوں کی تربیت ہے یا یہ کہہ لے کہ بہت سے ریپ واقعات کی وجہ ہی یہی ہے کہ بچوں کی تربیت میں بگاڑ بچہ جب 1 سال کا ہوتا ہے تو وہ انگوٹھا منہ میں ڈالتا ہے یا ماں کے دودھ پینے کے دوران اس کی جسم سے اکسٹوسن خارج ہوتا ہے جو کہ بچے کے لیے تسکین کا باعث بنتا ہے اس طرح بچہ جب بڑا ہوتا جاتا ہے وہ اپنی جنسی اعضا کو چھونا وغیرہ دیکھنا اور اس میں دلچسپی لینا شروع کر دیتا ہے اور یہاں سے ہی والدین کا کردار شروع ہوتا ہے ہمارے ہاں بچوں کی تربیت کے کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی پاکستان جسے پسماندہ ملک میں وقعہ کی مشکل کام ہے پر اگر مرد عورت کے ساتھ تعاون کرے تو یہ مشکل کام نہیں کیوں کہ یہاں تربیت صرف ماں کرتی جو کہ کافی نہیں اس وقت والدین کو چاہیے کہ بچے کو آٹھ سال تک باتھ تھراپی دیں جسکہ بچے کو خود باتھ روم لے جاے اور باتھ روم لے جانے کے معاملے پر کسی غیر شخص پر بھروسہ نہ کرے اور بچوں کو اچھی طرح علم دے کے کس طرح باتھ روم میں وقت گزارنا ہے جسے کے ٹوائلٹ کے سامنے والی جگہ دیوار کو خوبصورت بنائیں تاکہ کم سے کم توجہ بچے اپنی شرمگاہ کی طرف کر یں اسی طرح بچہ یا بچی کو آگاہ کرے کے آپ کے خاص اعضا کو ہاتھ لگانے کا حق آپ کے والدین کو ہے بچے جب نوعمری میں پنچ جاے تو ان کو اسی طرح گلے لگائے جسکہ چوٹے ہوتے ان کو کس کرنا گلے لگانا وغیرہ اس طرح ان کے سامنے ان کے آنے والی زندگی اور sexual education کے بارے میں بات کرتے رہے جسے لڑکیوں کے مسائل اور ان کا حل تاکہ وہ کسی ایسے شخص یا دوست سے رابطہ نہ کرے جو انہیں درست معلومات نہ دے اور ایسی چیز ان کے نفسیات میں بگاڑ پیدا کر دیتی ہے لڑکوں کو آگاہ کرنا چاہے کے بڑے لڑکوں کو دوست نہ بنائے ہمشہ اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ وقت گزارے اور والد کو چاہیے کے لڑکوں کے مسائل کے بارے میں آگاہ کرے اسی طرح انہیں دینی معلومات کے ان کے ذہنوں کو پانی دیتے رہے اور بہت کچھ ہے اس مضمون پر لکھنے کیلئے لیکن بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھے جب تک اس پر توجہ نہ دی گی ریپ کو واقعات پر قابو پانامشکل نہیں ناممکن ہے اور جو لوگgender discrimination create کرتے ہے ایسے لوگوں سے بچوں کو دور رکھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button