بلاگز

جب تک دم ہے ذکر ان ﷺکا سناتے جائیں گے

ایک بار جبرا ئیل علیہ السلام سے آپ ﷺ نے پوچھا اے جبرائیل علیہ السلام تمھاری عمر کتنی ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا . یا رسول اللہ ﷺ میں یہ تو نہیں جانتا کہ میری عمر کتنی ہے مگر میں نے چوتھے حجاب میں ایک چمکتا ستارہ دیکھا تھا جو 70 ہزار سال کے بعد چمکتا تھا اور اسی چمکتے ستارے کو میں نے 72 ہزار بار دیکھا . تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ نورانی تارہ میں ہی ہوں. اسی طرح ایک بار حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے عرض کی یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالی نے سب سے پہلے کس چیز کو تخلیق فرمایا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی نے سب سے پہلے نور محمدی ﷺ کو تخلیق فرمایا پھر اس نور کے چار حصہ کر دیئے ایک حصہ عرش دوسرا لوح محفوظ تیسرا قلم اور چوتھے حصہ آپ ﷺ کے چہرہ انور پر اتار دیا. اللہ تعالی نے مختلف اقوام کی رہنمائی کے لئے کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر اور رسول بھیجے اور آخری پیغمبر ہمارے پیارے نبی ﷺ کو بھیجا . مسلمانوں غور کرنے کی بات ہے سب سے پہلی تخلیق نور محمد اور آخری نبی جن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا . یعنی کے صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ تمام کائنات اور تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا . اور آپ ﷺ کی آمد سے پہلے جہالت کا دور دورہ تھا بتوں کی پوجا ہوا کرتی تھی بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اور جس دن آپ ﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی جس سے دنیا کو ہدایت میسر آئی اکثریت علمائے کرام کے مطابق آقا علیہ السلام کی ولادت 12 ربیع اول ہے اور بروز پیر ہے یہی اور چند 9 ربیع اول بھی کہتے ہیں. آپ ﷺ پیر کو روزہ اس لئے رکھتے تھے کیونکہ ان کی ولادت کا دن ہیر تھا . اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے جو اللہ کی راہ میں شھید ہو جائیں انہیں مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں مگر تو گمان نہیں رکھتے .اس نقطہ کو ذہن میں رکھیا گا اور ایک اور بات پر غور کیجیے گا سوگ صرف تین دن کا ہے یہ دوسرا نقطہ ذہن میں رکھیے گا . اب میں تیسری بات آپ کے گوش گزار کرنے لگا ہوں جو یہ کہتے ہیں آپ ﷺ کا وصال بھی 12 ربیع اول کو ہوا وہ جشن عید میلاد النبی ﷺ مناتے ہیں یا ناعوذ با اللہ وصال کادن کے بارے غلط گمان منسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں . اعمال کا دار ومدار نیتوں پرہے.مسلم شریف کے الفاظ ہیں جس نے اسلام میں ایک اچھا طریقہ جاری کیا تو جتنے لوگ اس پر چلیں گے اس کو بھی اور جو عمل کرئے گا اس کو بھی ثواب ملتا رہیے گا .اللہ تعالی سورہ الحضی کی آئت نمبر 11 میں ارشاد فرماتا ہے اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چر چا کرو . سب سے بڑی نعمت آپ ﷺ سے بڑھ کر کونسی ہو سکتی ہے اور مسلمانوں کی اکثریت نا صرف ربیع اول بلکہ ربیع اول کے بعد بھی آپ ﷺ کا میلاد النبی ﷺ اس ہی عقیدت و احترام سے مناتے ہوئے یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اللہ ان کی آل میں سے کوئی بھی گستاخ رسول ﷺ پیدا نا ہو.میلاد النبی ان نیتوں سے منائیں 5 وقت کے نمازی بن جائیں,قرآن پاک کو پڑھنے ,سمجنے اور عمل کرنے والے بن جائیں . آقا علیہ السلام کی سنتوں ہر عمل کرنے والے بن جائیں ہمارا جاگنا بھی سنت کے مطابق ہو جا ئے ہمارا سونا بھی سنت کے مطابق ہو جائے, ہمارا بولنا, چلنا,والدین کے حقوق, پڑوسیوں اور رشتے داروں کے حقوق ادا کرنے والے بن جا ئیں , نیکی کا حکم اور برائیوں سے منع کرنے والے بن جائیں .اپنے آپ کو اور اپنے اہل و اعیال کو جہنم کی آگ سے بچانے والے بن جائیں . یہی پیغام ہے عید میلاد النبی ﷺ کا کہ ہم نے اہنی کوشیشوں سے اس معاشرے کو اور اس دنیا کو اچھائی کی جانب لے کر جانا ہے. ضرورت اس امر کی ہے ایسے ماحول سے وابستہ ہو جائیں جہاں اہنی اور اہنے اہل و اعیال کا خاتمہ ایمان ہر ہو جائے. آخری بات جب آپ ﷺ کی ولادت ہوئی تو آپ ﷺ نے اللہ عزوجل سے فرمایا اے میرے رب میری امت میرے حوالے کر دے جب معراج کا وقت آیا تب امت کو یاد کیا جب موت کی سختی کا ذکر ہو رہا تھا تب امت کی فکر اور جب روز محشر برپا ہو گا تو امت کو کیسے بھولیں گے. اللہ تعالی خود فرماتا ہے اے حبیب ﷺ ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا . وہ امت کتنی خوش نصیب ہے جس کا امتی بنے کی خواہش انبیاء علیہ السلام کرے .

حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولا کی دھوم
مثل نجد فارس کے قلعے گراتے جائیں گے
اور جب تک دم ہے ذکر ان ﷺکا سناتے جائیں گے.

تحریر : فیصل محمود

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button