بلاگز

طلاق، اسباب اور تدارک

‏آج سے دہائی ڈیڑھ دہائی قبل طلاق کے واقعات تقریباً نا ہونے کے برابر تھے. کبھی کبھار وہ بھی دور دراز علاقوں سے کسی کی طلاق کا افسوسناک واقعہ سننے کو ملتا تھا. طلاق کا سن کر اتنا ہی دکھ اور غم پہنچتا تھا جتنا کسی انسان کے قتل پر. اب دور حاضر میں طلاق اور قتل دونوں ہی عام اور معمولی سانحات محسوس ہوتے ہیں. آج کل اپنے محلے میں بلکہ پڑوس میں طلاق والے ناخوشگوار واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں. بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح خطرناک اور افسوسناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اس شیطانی فعل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے. جب نجی ٹی وی ڈارمے، میڈیا اور انٹرنیٹ عام نہیں تھے تب طلاق عام نہیں تھی. میڈیا بالخصوص غیر معیاری ٹی وی ڈراموں اور انٹرنیٹ کا غیر ضروری استعمال طلاق کے سانحات اور ان میں اضافے کی وجوہات میں سے ہیں.

‏حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
‏”اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا جو اُس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو”
‏مطلب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ہاں طلاق جائز مگر ناپسندیدہ ترین فعل ہے. بغیر کسی سنگین اور معقول شرعی وجہ کے طلاق نہیں دینی چاہیئے اور نہ ہی لینی چاہئے. اللہ تعالیٰ نے رشتوں کو توڑنے کی مذمت فرمائی ہے.

‏يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا
‏(النساء: 1)

‏”اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے”
‏اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ واضح انداز میں رشتے ناطے توڑنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ ایسا کرنے سے باز آ جاؤ.

‏دور حاضر میں طلاق دینے کے واقعات بڑھ گئے ہیں. معمولی بات پر مرد کی طرف سے طلاق دے دی جاتی ہے یا عورت کی طرف سے طلاق لے لی جاتی ہے. لوگوں نے معمول بنا لیا ہے بغیر کسی معقول اور شرعی عذر کے طلاق دینے کا. کچھ دن قبل مجھے ایک جوڑے کے بارے سن کر افسوس ہوا کہ 10 سالہ ازدواجی تعلق کے بعد میاں بیوی الگ ہو گئے. معمولی اسباب پر عورت کی طرف سے طلاق کا مطالبہ کرنا یا مرد کا طلاق دے دینا انتہائی قابل مذمت کام ہے.
‏ارشاد ربانی ہے کہ،

‏ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا
‏(الطلاق: 1)

‏”یہ اللہ کی مقرر کرده حدود ہیں، جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ظلم کیا، تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے”
‏میاں اور بیوی دو معزز ساتھی ہیں. دو گھروں اور دو خاندانوں کی بنیادیں اُن دونوں میاں بیوی کے مابین محبت کی وجہ سے بنتی اور مضبوط ہوتی ہیں. دو خاندانوں کے درمیان میاں بیوی کے رشتے کی وجہ سے تعلق بنتا ہے اور پھلتا پھولتا رہتا ہے. مزید یہ کہ گھر کے اندر اُنسیت اور ہم آہنگی کا ماحول ہمیشہ قائم رہتا ہے اور اختلاف و ناچاقی کا خاتمہ ہوجاتا ہے اگر میاں بیوی کے درمیان تعلقات مضبوط اور محبت سے بھرپور ہوں تو. اسی لئے اسلام نے نکاح کے بندھن کو بلند کیا اور طلاق کی حوصلہ شکنی کی.
‏طلاق کی شرح میں اضافے کی بہت ساری وجوہات ہیں. والدین کی رضامندی کے خلاف بلکہ بعض واقعات میں والدین کی شدید مخالفت کے باوجود شادی میں من مانی کرنا بھی طلاق کا سبب بنتی ہے. شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے درمیان ناجائز تعلقات بھی طلاق کا سبب بنتے ہیں. شادی سے پہلے یا شادی کے بعد بھی گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ کا کلچر عام ہوتا جا رہا ہے، یہ بھی طلاق کا سبب بنتا ہے.

‏نکاح دو خاندانوں کے مابین مضبوط رشتے اور میاں بیوی کے مابین سخت عہد و پیمان کا نام ہے. نکاح دو انسانوں میاں بیوی کا اور دو خاندانوں کے درمیان خوشگوار اور محبت کے تعلقات کا نام ہے.
‏فرمانِ باری تعالیٰ ہے،

‏وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا
‏(النساء:21)

‏”حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور ان عورتوں نے تم سے مضبوط عہد وپیمان لے رکھا ہے”
‏میاں بیوی کے درمیان ایک خوبصورت اور مضبوط تعلق ہے جو آسانی سے نہیں ٹوٹنا چاہئے. میاں بیوی کے درمیان تعلقات دو خاندانوں کے درمیان تعلقات کے لئے شہہ رگ ہوتے ہیں، خدانخواستہ اگر میاں بیوی کے درمیان تعلقات خراب ہو جائیں تو دو خاندانوں کے درمیان تعلقات خراب ہو جاتے ہیں اور اگر جوڑا اولاد والا ہے تو تعلقات میں بگاڑ کی وجہ سے اولاد کی پرورش اور تربیت پر بھی بہت برے اثرات پڑتے ہیں.

‏نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان شادی کرنے کے لئے شکل و صورت دیکھتا ہے یا خاندان کا نسب دیکھتا ہے یا مالدار ہونا دیکھتا ہے مگر بہتر یہی ہے کہ تم لوگ دینداری کو مقدم رکھو اور باقی تمام باتوں پر دینداری کو ترجیح دو. ایسی شادی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد عالی شان کے مطابق انجام پاتی ہے یقیناً وہ کامیاب رہتی ہے. بعض دفعہ ہم ایسا رشتہ قبول ہی نہیں کرتے جو ظاہراً کسی وجہ سے ناپسند ہو مگر اس رشتے میں دینداری ہوتی ہے اور وہی رشتہ کامیاب ہوتا ہے مگر ہمیں عقل نہیں ہوتی. اسی حوالے سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ،

‏وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا
‏(النساء:19)

‏”ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے”
‏اگر مرد یا عورت میں سے کوئی دوسرے کو ناپسند کرتا ہو تو پھر بھی وہ تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرے، ہو سکتا ہے یہی بندہ اس کے لئے بہتر ہو اور اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے لئے محبت اور برکت پیدا کر دیں. جب اللہ تعالیٰ کسی رشتے میں محبت اور برکت پیدا فرما دیں تو ان رشتے کے درمیان تعلقات ختم ہونا تو دور کی بات ان کے تعلق میں وقتی طور پر اونچ نیچ بھی ہونا ناممکن ہے.

‏غصہ ایک شیطانی فعل ہے. میرے خیال میں میاں بیوی کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی وجہ شک اور شک کی بنا پر غصہ کرنا ہے. جتنے بھی طلاق والے ناخوشگوار واقعات رونما ہو چکے ہیں ان کے اسباب میں شک اور غصہ لازمی ہوگا. انسان کو ہمہ وقت تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیشہ عفوو درگزر سے کام لینا چاہئے. ویسے تو انسان کو ہمیشہ زندگی بھر تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہئے مگر گھریلو معاملات اور بالخصوص ازدواجی تعلقات میں لازمی طور پر صبر، تحمل اور عفو و درگزر سے کام لینا چاہیے. ایسا کرنے سے ایک تو آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب کے مستحق ٹھہریں گے اور دوسرا آپکے گھر میں طلاق والی نوبت نہیں آئے گی.

‏ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ ۗ
‏(الحج:30)

‏”یہ ہے اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے”

‏اگر کوئی مرد اپنی بیوی سے بغض رکھتا ہے یا عورت اپنے مرد کے ساتھ بغض رکھتی ہے تو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پڑھنا چاہیے.
‏حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نے فرمایا،
‏”کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے ،اگر اسے اس کی کوئی عادت نہ پسند ہو تو دوسری پسندیدہ ہوگی”
‏مطلب میاں بیوی کو ایک دوسرے کی بری چیزوں اور باتوں کو نظرانداز کرکے اچھی اور مثبت باتوں کو دیکھنا چاہئے، اگر کسی میں کوئی بری بات ہوگی تو اس میں یقیناً کوئی اچھی بات بھی ہوگی. اسی پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اور میاں کی غلطی کو درگزر کرنے پر بیوی سے انعام کا وعدہ بھی کیا،

‏وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
‏(النساء:128)

‏”اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بد دماغی اور بے پرواہی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں جو صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناه نہیں. صلح بہت بہتر چیز ہے، طمع ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے. اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیزگاری کرو تو تم جو کر رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ پوری طرح خبردار ہے”

‏اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اگر کسی عورت نے بغیر کسی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا تو اُس پر جنت کی خوشبو حرام ہے”
‏(مسند احمد/ ابی داؤد)
‏عورت کو بغیر کسی شرعی عذر اور معقول وجہ کے طلاق کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے، اگر کوئی عورت ایسا کر گزرتی ہے تو اس کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ ایسی عورت جنت کی خوشبو تک نہیں سونگھ پائے گی.
‏میاں بیوی کے درمیان کسی بات پر ان بن ہو سکتی ہے. ایسی صورتحال سے نپٹنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک طریقہ کار وضع فرما دیا ہے کہ،

‏وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا
‏(النساء:35)

‏”اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو، اگر یہ دونوں صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا، یقیناً اللہ تعالیٰ پورے علم والا پوری خبر والا ہے”
‏مطلب میاں اور بیوی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی صورت میں عورت اپنے لئے ایک نمائندہ منتخب کرے اور مرد اپنے لئے ایک نمائندہ منتخب کرے، دونوں نمائندگان دونوں فریقین کے موقف سنیں اور دونوں کے درمیان کشیدگی ختم کرتے ہوئے دونوں میں صلح کروا دیں. اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان ملاپ کروا دیں گے.

‏اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ "جب عورت پنجگانہ نماز ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو اُس سے کہا جائے گا کہ تم جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہوجاؤ”
‏اگر مرد اور عورت اپنی بے لگام خواہشات میں لگے رہیں، جب تعلقات میں سردمہری آئے اور وہ دوسروں کی بات سننے اور سمجھنے پر اکڑاہٹ اور ہٹ دھرمی کو ترجیح دیں تو پھر نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے. اللہ اپنی وسیع حکمت سے دونوں کو بے نیاز کر دیتا ہے.

‏وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا
‏(النساء:130)

‏”اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا، اللہ تعالیٰ وسعت والا حکمت والا ہے”
‏مردوں اور عورتوں کو میاں بیوی جیسے بابرکت اور خوبصورت تعلق کے متعلق، دو خاندانوں کے درمیان تعلق کے متعلق اور اولاد کے متعلق اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ڈرنا چاہیے. میاں بیوی کے درمیان ایسے حالات پیدا نہیں ہونے چاہیئں جو طلاق کی طرف جاتے ہیں، اگر بالفرض ایسے حالات اور واقعات پیدا ہو جائیں تو باہمی گفتگو و شنید کے بعد معاملات حل کر لینے چاہئیں.

تحریر: عظمیٰ عبدالکریم

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button