بریکنگ نیوز

آرمی چیف بننے کے لئےایک سال کورکمانڈر کی شرط ہے

ستمبر کے آخر تک یہ فائنل ہو گیا کہ کون کہاں جائے گا۔

عمران خان نے جنرل باجوہ سے آئی ایس آئی کو کیا ڈکلیر کرنے کا کہا۔

جنرل فیض احمد فیض ڈی جی آئی ایس آئی قمر جاوید باجوہ کے درست راست اور عمران خان کے ٹربل شوٹر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔اس لئے دونوں کی یہ مشترکہ خواہش تھی۔ کہ وہ اگلے سال آرمی چیف کے لیے کوالیفائی کرنے والے 4 سینئر لیفٹیننٹ جنرلز کی فہرست میں شامل ہوں۔ آرمی کی روایت اب نئے آرمی رولز کے مطابق یہ بھی ضروری ہے۔ کہ انہوں نے کم از کم ایک سال کور کمانڈر کیا ہو۔
اس لیے آرمی چیف نے اس معاملے میں مشاورت عمران خان سے جولائی میں کی تھی۔ جبکہ عمران خان نے یہ تجویز دی کہ پہلے آئی ایس آئی کو کور بنا دیا جائے۔ مگر ان کو بتایا گیا ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ اب وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان اپنا حق جتاتے ہیں۔ مگر آئی ایس آئی کا کور بن جانے کی صورت میں وہ صرف آرمی چیف کے زیر کمانڈ رہتا ہے اور اس سے وزیراعظم کا تعلق یکسر ختم ہو جاتا ہے۔
پھر انہوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ دسمبر تک ان کو رکھا جائے ۔مگر آرمی چیف نے دوبارہ ان کو یہ واضح کیا اور خود جنرل فیض احمد نے ان کو سمجھایا کہ اگر وہ دسمبر میں جائیں گے ۔ تو اگلے سال نومبر میں ان کے کور کمانڈ کرنے کی ایک سال مدت پوری نہیں ھوگی۔ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر جرنل فیض حمید کی جگہ ان کے ذہن میں کوئی اور نام ہے تو بتا دیں۔ مگر ان کا جواب تھا ۔کہ وہ آرمی چیف اور جنرل فیض حمید کے سوا آرمی کی صفوں میں کسی اور کو نہیں جانتے۔
اس لئے اس کے بعد آرمی چیف نے اپنے نظام کے مطابق تقرریوں اور تبادلوں کا آغاز کیا۔ اور ستمبر کے آخر تک یہ فائنل ہو گیا کہ کون کہاں جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button