بلاگز

پینک اٹیک انسان کا سب سے بڑا دشمن

اس کو دیکھنا سائیکیٹرسٹ کا کام ہوتا ہے

ایک دم انسان بیٹھا ھوتا ھے اور اس پر خوف اور گبھراہٹ طاری ھوجاتا ھے

ایک دم سے انسان نارمل بیٹھا ہوتا ہے۔ اور ایک دم سے شدید قسم کی گھبراہٹ سے محسوس ہوتی ہے ۔ اس کا نام بھی واضح کرتا ہے ۔ کہ مجھے کچھ ہونے لگا ہے ۔اور ایک شدید قسم کی گھبراہٹ ۔موت کا خوف ہوتا ہے۔ کہ بس میں مرنے لگا ہوں۔ تو وہ جو ایک صورتحال بنتی ہے۔ اسے ہم پینک اٹیک ڈس آرڈر کہتے ہیں۔ کہ جب جینز الاہیزڈس آڈر ہوتا ہے۔ تو مسلسل طبیعت خراب چل رہی ہوتی ہے ۔ مریض کی وجہ سے پتہ بھی چل رہا ہوتا ہے۔ تو دوائی کے ساتھ نارمل ہوتے ہیں۔ اور درمیان میں ان کو پینک اٹیک آتے ہیں۔ لیکن اکثر مریض ہوتے ہیں۔ کہ ان کے اندر کچھ بھی نہیں ہوتا ۔کوئی ایسی بات نہیں ہوتی۔ اور ایک دم سے گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہوتا ہے۔ اب ظاہر ہے ٹینشن ہے اب وہ انزاٹی کہاں سے آتی ہے ۔ جو ایک دم سے پیداہوتی ہے ۔وہ آتی کہاں سے ہے ۔ اس کے لیے آسان سی مثال ہے۔ کہ جب زلزلہ آتا ہے ۔ تو کہا جاتا ھے اتنے ریکٹل سیکل کا زلزلہ تھا تھا ۔ ابھی ہمارے سینے میں جتنے بھی سسٹم ہیں کام کر رہے ہیں ۔ وہ ہمارے لاشعور کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے لئے ہمارا شعور میں ہونا ہمارے جاگتے ہوئے ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔ وہ سوتے ہوئے بھی چل رہے ہیں بے ہوشی کی حالت میں چل رہے ہیں ۔ اور وہ جو تبدیلی آتی ہے۔ وہ ہمارے شعور میں آئے بغیر آتی ہے۔ اس لئے ہوتا ہے ۔کہ لاشعور میں تو انہیں اوپر دل کے اوپر سانس بند ہونا۔ پیٹ کے اوپر بعض اوقات جو انزاٹی ہوتی ہیں ان کو لوز موشن بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ تو ایک جو ایک انزاٹی ہوتی ہے ۔وہ کہی نہ کہی انسان کے ذہن میں چل رہی ہوتی ہے۔ تھراپسٹ کا یہ کام ہوتا ہے۔ کہ وہ اسے دوائیاں اس پینک اٹیک کی تو کوئی بھی ڈاکٹراسے دے گا۔ اور مریض ٹھیک ہوجائے گا۔ لیکن جو اس کا اصل علاج ہوتا ہے۔ کہ اب اس نے سائیکیٹرسٹ کے پاس جانا ہے۔ اس کی جو بنیادی چیزیں ہوتی ہیں۔ اس کو دیکھنا سائیکیٹرسٹ کا کام ہوتا ہے۔ تو سائکیٹرس جب بائیو ماڈل سوشل آرڈر پر دیکھے گا ۔ تو پھر ایک نتیجے پر پہنچے گا۔ کہ اس کی کیفیت یہ کیوں پیدا ہو رہی ہے ۔ پھر یہ سا ہیکاٹریسٹ پر ہے۔ کہ مریض کو وہ کتنی بات بتاتا ہے ۔اور کتنی بات نہیں بتاتا ہے۔ کہ مریض کے مشورے کے مطابق سے اس کے اندر ایک مثبت تبدیلی لا سکے کے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button