بلاگز

مسلمان اور سائنس کی تحقیق

چینیوں نے اپنی آزادی کے 22 سال کو ہماری طرح ضائع نہیں کیا

مسلمانوں کے علمی دوستی

نمبر1 . یہ امر قریب قریب یقینی ہے کہ عربوں کے بغیر یورپ کی جدید تہذیب رونما نہیں ہو سکتی

نمبر2 . ہماری سائنس اس بات کے لئے عربوں کی مرہون منت نہیں کہ انہوں نے چونکا دینے والے انکشافات یا انقلابی نظریہ پیش کیے سائنس سے کہیں زیادہ عربوں کے زیر بار احسان ہے اس کا وجود ہی ان کی بدولت ہے

نمبر3. جس چیز کو ہم سائنس کہتے ہیں وہ یورپ کی تحقیق کی نئی روح دریافت کرنے کے نئے انداز فکر تجربہ مشاہدہ اور پیمائش کے نئے طریقے کار اور ریاضی کو درجہ تکمیل تک پہنچانے کا وہ ضابطہ اختیار کرنے سے نمودار ہوئی جس سے یونانی بالکل ناواقف تھے اس روح اور ان طریقوں سے یورپ کو عربوں نے متعارف کرایا

نمبر4 . حیوانات طبیعات نباتات پر ارسطو نے کتابیں لکھیں مگر اسے کبھی کوئی تجربہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی جن امور کا صحیح غلط ہونا بہت آسانی سے کیا جا سکتا ہے تبھی اس نے کوی زحمت نہیں اٹھائی اور بڑے اطمینان سے یہ غلط دعویٰ کرتا ہے کہ مرد کے دانتوں کی تعداد عورت کے دانتوں سے زیادہ ہوتی ہے جالنیوس جو علم التشریح مسلم الثبوت ماہر ہے کہتا ہے کہ نیچے کے جبڑے میں دو ہڈیاں ہوتی ہیں یہ بات اس وقت تک مانی جاتی رہیں جب تک عبداللطیف نے انسانی کھوپڑی کے مشاہدے کے بعد اسے غلط ثابت نہ کر دیا ۔

مندرجہ ذیل چار بالا جملے رابرٹ بریفو کی کتاب تعمیر انسانیت سے لیے گئے ہیں اس کتاب کی اشاعت کو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے یہ پہلی بار 1919 میں چھپی تھی اس کے بعد کئی بار چھپی جس سے اس کتاب کے معیاری اور مقبول ہونے کا ثبوت ملتا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو ترقی دینے اور علوم بالخصوص سائنس کے نشوونما میں مسلمانوں کا کتنا بڑا حصہ ہے ہمارا انگریزی دان طبقہ تو اس سے کچھ نہ کچھ آشنا ہے مگر ہمارے اہل علم میں جو انگریزی نہیں جانتے اور جن کا عربی زبان کا مطالعہ صرف مذہبی کتابوں تک محدود ہے وہ بھی غالبا اپنے اسلاف کے ان زریں کارناموں سے ناواقف ہیں اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کے جستہ جستہ اقتباسات پیش کرکے یہ بتایا جائے کہ کئی صدیوں تک مسلمانوں نے علم و حکمت اور تہذیب و ساری دنیا کی رہنمائی کی ہے یہ صحیح ہے کہ پچھلے پانچ صدیوں میں مسلمان علمی حیثیت سے اپنا وقار کھو چکے ہیں لیکن ہم اگر اپنے اسلاف کی طرح پھر ہمت حوصلہ عرق ریزی سے کام لیں تو بہت جلد مغربی قوموں کے دوش بدوش چل سکتے ہیں جاپان اور چین نے یہ بات ثابت کی کہ علم و حکمت پر اہل مغرب کی اجارہ داری نہیں بلکہ جو قوم بھی عزم جواں سے کام لینے پر آمادہ ہوجائے وہ اپنی پسماندگی کو مختصر سی مدت میں دور کرنے کی قدرت رکھتی ہے چین نے صرف 22سال میں جو ترقی وہ حیرت انگیز ہے دنیا بھر میں مشہور ہے کہ چینیوں نے اپنی آزادی کے 22 سال کو ہماری طرح ضائع نہیں کیا اب سے 95 سال پہلے مولانا الطاف حسین حالی کا ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں مسلمانوں کی زبوں حالی کے وجوہات نہایت وضاحت سے بیان کئے گئے تھے اور غیرت دلائی گئی تھی کہ وہ قوم جو اسلام کا پرچم لے کر نکلی تھی اور صدیوں دنیا کی سب سے بڑی سلطنت پر حکمران رہی وہ غریب الغربا بن گئی ہے

انہوں نے توقع کی تھی کہ شاید قوم کو کچھ غیرت آئے اور وہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کی صحیح جمیل کریں جب سے اب تک یعنی تقریباً ایک صدی میں ہم نے اتنا ضرور کیا کہ ہندوستان کے پانچویں حصے پر ایک سلطنت قائم کر لی اور اس کو دھونے میں لگ گئے لیکن مزید کوشش کرنا ضروری رہ گئی جہاں تک علم و حکمت کے ورثےکی بازیافت کا سوال ہے اہل علم کے حاشیہ برداری پر قانع ہو گئے ہیں اور اس قناعت میں مگن ہے تاہم حصول علم میں بھی وہ استقامت پیدا کر سکتے جو جس راہ پر گامزن نہ ہی وہ منزل تک نہیں جاتی ہم ایک بھول بھلیاں پھنس گئے ہیں گھوم پھر کر وہیں آ جاتے ہیں جہاں سے آغاز سفر کرتے ہیں راہِ مستقیم سے ہٹے صدیاں ہوگی تب ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ رات تھی کہاں اور اس کا سراغ کیوں کر سکتا ہے یہ بھی ہم کو غیروں سے معلوم ہوا کہ کبھی ہم نے بھی جہاں کو نور علم سے جگایا تھا اور جیسا آج انگریزی سیکھنا مہذب کہلائے جانے میں کیا جاتا ھے بریفعو کی کتاب کے اقتباسات پیش کرنے کی ضرورت یہ ہے کہ شاید اپنے اسلاف کے علمی کارنامے پڑھنے کے بعد ہم میں سے کچھ گمشدہ ورثےکی تلاش پر مائل ہو جائے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button