بلاگز

بریسٹ کینسر اور پنک اکتوبر

بریسٹ کینسر سے آگاہی کے لیے لیے اکتوبر کے مہینے کو پوری دنیا میں میں "پنک اکتوبر” کے نام سے منایا جاتا ہے۔ 1990  میں دنیا میں پہلی مرتبہ بریسٹ کینسر کے  لئے حوالے سے  آگاہی کے لیے "پنک ربن”  کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس مہم کے تحت ہر سال اکتوبر میں  بیشتر ممالک میں کینسر جیسے موذی مرض سے آگاہی، تشخیص، علاج کے مراحل وغیرہ کے لیے پروگرام اور سیمینار وغیرہ منعقد کیے جاتے ہیں۔ بڑی شخصیات وغیرہ پنک ربن مہم کا حصہ بن کر اس کی تشہیر کرتی ہیں، اور اخبارات اور جرائد وغیرہ پر اس مرض سے آگاہی کے لئے مضامین اور مقالوں وغیرہ کی اشاعت کی جاتی ہے۔ بریسٹ  کینسر دنیا میں کینسر کی دوسری بڑی قسم کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ پاکستان میں بریسٹ کینسر پھیلنے کی شرح ایشیا میں سب سے زیادہ ہے، جو کہ نہایت تشویشناک ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کے مرض کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔

بریسٹ کینسر میں، بریسٹ کے اندر موجود خلیے بے قابو ہو کر تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔ اور جمع ہو کر بریسٹ کے کسی حصے میں رسولی یا گلٹی بنا دیتے ہیں۔ بعد میں یہ زخم کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ جو بہت سے کیسز میں پچیدہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاج کے لیئے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ کیمو تھراپی سرجری کے بعد کینسر سیلز (خلیوں) کو تباہ کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ سب مریضوں کی نہیں کی جاتی، بلکہ صرف ان کی، جن کے لیے ضروری ہو۔  لیکن اس کے مضر اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ 
یاد رکھیں بریسٹ کینسر متعدی مرض نہیں ہے۔ ( Infectious)۔ یہ ایک خاتون سے دوسری میں چھونے کے زریعے منتقل نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ ایک جنیاتی مرض یے۔ جن خاندانوں کی ہسٹری میں بریسٹ کینسر ہو ان نسلوں میں خواتین میں بریسٹ کینسر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ جنیاتی طور پر اس مرض کے خلاف کمزوری کی وجہ سے سے یہ مرض ماں سے بیٹی میں ہو جاتا یے۔ اور جو خواتین اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں ان میں یہ خطرہ دوسری خواتین سے کم ہوتا ہے۔

پاکستان میں بریسٹ کینسر کی ابتدائی سطح پر تشخیص کے صرف 4 فیصد ہے، جو کہ بہت کم ہے۔  بریسٹ کینسر کی بر وقت تشخیص بہت اہم ہے۔ کیوں کہ اگر اس کی تشخیص ابتدائی مراحل میں ہوجائے تو یہ قابل علاجِ ہوتی ہے۔  اور اس کا مکمل علاج ممکن ہے۔ اس مرض کی چار سٹیجز ہیں۔ پہلی دو میں یہ مرض قابل علاج ہوتا ہے باقی دو میں کافی پیچیدگیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج تب ہی ممکن ہے جب اس کے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہو۔ اگر خواتین اس مرض کے بارے میں مکمل آگاہ ہو گیں تو اس مرض سے موت کی موت کی شرح اور مرض کی شرم میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

ہر سال ہزاروں خواتین بریسٹ کینسر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ عموماً ان خواتین کا تعلق غریب یا مڈل کلاس گھرانوں سے ہوتا ہے، جن میں بر وقت مرض کی تشخیص نہیں ہو پاتی، اور علاج کے لئے سہہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔ عموماً خواتین شرم و جھجھک کی وجہ سے مرض کی علامات اور پیچیدگی کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرتیں۔ نہ ہی کسی ڈاکٹر وغیرہ کے پاس جانا ضروری خیال کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے مرض کی تشخیص ابتدائی مراحل میں نہیں ہو پاتی، اور مرض پیچیدگی اختیار کر جاتی ہے۔ مرض کی ابتدائی مراحل میں تشخیص نہ ہو پانے کی وجہ سے  صنف نازک اس موذی مرض سے لڑتے لڑتے دم توڑ جاتی ہیں۔

  بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی پھیلانے والی ایک تنظیم کے مطابق ہر آٹھ میں سے ایک عورت زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں بریسٹ کینسر کا شکار ہو سکتی ہے۔ تمام خواتین کو چاہیے کہ بریسٹ کینسر کی تمام علامات جانیں اور اس مرض کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کریں۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کے لیے بریسٹ کینسر اور اس سے متعلق بات کرنا ایک ٹیبو ہے۔ بریسٹ کینسر کے حوالے سے اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بریسٹ کینسر بھی باقی امراض کی طرح ایک عام مرض ہے۔ لیکن اس مرض کی طرف ہمارا رویہ عجیب بے حسی کا ہے، جس کی وجہ سے اس مرض کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بریسٹ کینسر کی تشخیص کے بعد معاشرے کی طرف سے مثبت رویہ سامنے نہیں آتا۔ بلکہ لوگ انہتائی منفیت اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اہل خانہ اور اردگرد کے افراد کے ان رویوں کی وجہ سے خواتین ڈیپریشن اور تنہائی وغیرہ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان کی دماغی صحت بھی متاثر ہوتی ہے، اور بیماری کے خلاف مدافعت بھی کم ہو کر رہ جاتی ہے۔
خواتین کو چاہیے کہ اپنا خیال رکھے خود کو وقت دیں۔ بریسٹ کینسر ہونے کی علامات سے متعلق مکمل جانکاری لیں۔ اگر بریسٹ کینسر کی علامات ظاہر ہوں، یا کسی بھی گلٹی وغیرہ کی صورت میں لازمی ڈاکٹر کے پاس جائیں اور مکمل چیک اپ اور علاج وغیرہ کروائیں۔  یاد رکھیں اگر آپ بر وقت علاج کروائیں گے تو صحت یاب ہو گیں۔ لیکن اگر دیر کر دی گئی تو بھیانک نتائج سامنے آ سکتے۔ 

بریسٹ کینسر کی تشخیص ہو جانے کی صورت میں مکمل علاج کروائیں۔ جیسے ڈاکٹر کہے، ویسے ہی کریں۔ کسی اور رائے کے چکر میں نہ پڑیں۔ ہومیو پیتھک ادویات اور دم درود وغیرہ کے  چکر میں نہ پڑیں۔ بریسٹ کینسر کا علاج ہسپتال میں ہی ممکن ہے۔ بریسٹ کینسر کے علاج کے دوران دوائیاں، کیمو تھراپی اور سرجری وغیرہ کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ سب تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔  لیکن آپ ہمت مت ہاریں، اپنا ساتھ دیں۔ آپ خود، اپنے آپ کے  لئے سب سے زیادہ ضروری ہیں۔  

بریسٹ کینسر کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بریسٹ کینسر کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ اس مرض سے آگاہی اور علاج کے لیے سینیٹرز قائم کرے۔ خواتین کی ملازمت کی جگہ، تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کے حوالے سے پروگرامز اور سیمینارز منعقد کیے جانے چاہیے۔  اور سوشل میڈیا پر بریسٹ کینسر سے آگاہی اور خاتمے کے لیے مہمیں چلائی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ خواتین کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جانی چاہیے۔ 
خواتین کو چاہیے کہ متوازن غذا استعمال کریں۔ صحت مندانہ طرز زندگی اپنائیں۔ ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ زہنی دباؤ اور ٹینشنز وغیرہ سے دور رہیں۔
خواتین کے لیئے اس سے بچاؤ کا ایک طریقہ سکریننگ ہے، جو انہیں بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے سے روک سکتا ہے۔ 40 سے زائد عمر کی خواتین کو ہر سال میموگرام (الٹراساؤنڈ) لازمی کروانا چاہیے۔ اور اس سے کم عمر خواتین کو اپنا معائنہ کرنے کی عادت اپنانی ہو گی۔ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس جانا اور مکمل علاج کروانا ہو گا۔
ہمیں بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ بریسٹ کینسر کا شکار ہونے والی خواتین کے ساتھ بہتر رویہ اپنائیں۔ ان کا خیال رکھیں اور زندگی کی امید دلائیں، منفی فقرات اور نفرت سے پرہیز کریں۔ ان کی ہمت بندھائیں۔ اس کے علاوہ "پنک ربن” مہم کا حصہ بنیں اور اس مرض کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

تحریر: فاروق زمان

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button