بلاگز

مسلمان اور سائنسی تحقیق قسط نمبر ٢

اسلام کے بارے میں بریفو کی غلط فہمی ہے

بریفو کے اقتباسات پیش کرنے سے پہلے یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ وہ اسلام کے ثنا خوانوں میں سے نہیں بلکہ اس کا خیال ہے کہ مسلمان فرمانرواؤں کی مذہبی بے اعتنائی سے وہ آزادی میسر ہوئی جو انسان کو اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں مدد دیتی ہے وہ کہتا ھے خلافت راشدہ کا مختصر دور ختم ھوتے ہی۔ زمانہ خلافت اسلام کے بدترین دشمن یعنی بنو امیہ کے ہاتھ آ گئی اور ان سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جاسکتی تھی کہ اسلام سے اپنی دشمنی نکالی سیاسی مساہل کی بنا پر وہ اسلام کا نام برائے نام لیتے رہے مگر اس سے جتنی بے اعتنائی برتی جاسکتی تھی برتی گی۔ ان کے بعد بنو عباس نے اقتدار سنبھالا اور ان پر ایرانی تہذیب چھائی ہوئی تھی ان کا اسلام بھی نمائشی تھا ان کے زمانے میں آزاد خیالی اسلام پر حاوی ہو گئی چنانچہ خلیفہ مامون جس نے علم و حکمت کو سب سے زیادہ ترقی دیں کہا کرتا تھا کہ خدا کے برگزیدہ بندے وہ ہیں جو اپنی زندگی اپنی صلاحیتوں کی نشوونما کے لئے وقف کر دی جب وحشی قوموں نے خلافت عباسیہ کا تختہ الٹ کر اپنی اپنی حکومتیں قائم کیں اوراسلام قبول کرلیا تو تنگ نظری آگئی اسلام اس فروغ نے ساری ذہنی جدوجہد پر پانی پھیر دیا

‏بریفو کا یہ خیال حقیقت پر مبنی نہیں بنو امیہ من حیث القوم اسلام کے دشمن نہیں تھے۔ ابوسفیان نے جس جنگ احد اور جنگ احزاب میں کفار کی قیادت کی تھی مگر اس کی نامور بیٹی ام حبیبہ اسلام کے ابتدائی دور ہی میں مسلمان ہوگئی تھیں اور وہ کفار کی ایذا رسانیوں سے محفوظ رہنے کی غرض سے اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئی تھی وہ ان کا شوہر عیسای ہو گیا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سلم نے ان کے ایمان کی استواری اور ان کی بے چارگی کے پیش نظر انہیں ام المومنین بننے کا شرف بخشا ابو سفیان کے بیٹے معاویہ نے بھی فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا
اور خود ابوسفیان جب ایمان لایا تو خدا نے اس کو ایسا راسخ العقیدہ بنایا دیا کہ وہ شوقِ شہادت میں اپنی کبیر سنی کے باوجود رومیوں سے لڑنے والی مسلمان فوج میں شامل ہوا اور جام شہادت نوش کیا بنو امیہ کے نوے سال کی حکومت میں اسلام کو بہت فروغ ہوا اور اسلامی سلطنت اتنی وسیع ہوگی کہ اس سے پہلے کبھی دنیا میں اتنی بڑی سلطنت قائم نہیں ہوئی تھی اس خاندان میں اچھے اور برے دونوں طرح کے حکمران گزرے اس خاندان کے خلیفہ الحکم ثانی کے بارے میں جو اسپین کا فرمانروا تھا جس نے 961 976 تک حکومت کی جانچ سر ٹائم نے مقدمہ تاریخ سائنس میں لکھا ہے کہ وہ دنیا کے تمام مسلمانوں میں سب سے زیادہ علم دوست اور عالم فاضل حکمران تھا اس نے علم کو اتنا فروغ دیا تھا کہ جامع قرطبہ دنیا کے علوم کا مرکز بن گئی تھی مختصر یہ کہ بنو امیہ کے بہت سے حکمران پکے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ علم دوست بھی تھے بنو عباس میں بھی اچھے اور برے دونوں طرح کے حکمران ہوئے ان سب کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ ان کا اسلام نمائشی تھا اور دل سے وہ اسلام کی عظمت کے قائل نہ تھے تاریخی حقائق کو جھٹلانا ہے یا ان کے مذہبی کارنامے بیان کرنے کا محل نہیں صرف خلیفہ ہارون کی ملکہ زبیدہ ہی کا ایک کارنامہ ایسا ہے جو اس خاندان کی بادشاہی کا نام ہمیشہ روشن رکھے گا نہر زبیدہ آج بھی مکہ مکرمہ کے باشندوں اور ہر سال جمع ہونے والے حاجیوں کی خدمت کر رہی ہے بات یہ ہے کہ یورپ کے لوگوں کو مذاہب کا بڑا تلخ تجربہ ہے انہوں نے مذہب کے شکنجے سے نکل کر ہی آزادی فکر و عمل حاصل کی ان کی ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ مذہب ظالمانہ بندشوں کا نام ہے وہ اسلام کو بھی عسیا ہت کی طرح ایک شکنجا ہی سمجھتے ہیں اگر وہ کوشش کرتے تو ذرا سے غور و فکر کے بعد اس فرق کو سمجھ لیتے جو عیساہت اور اسلام میں ہے اسلامی قوانین کا دارومدار اللہ کے کلام قرآن اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال و افعال پر ہیں اس کے برخلاف عیساہیت میں قانون سازی کا اختیار یورپ کو ہے ظاہر ہے جو انسانوں کے محدود علم ناقص عقل اور خواہش نفس پر مبنی ہو وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام کے مقابلے میں کس قدر حقیر اور لغزشوں سے بھرا ہوا ہوگا پھر جب تاریخ سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ کچھ پوپ نہایت خوشگوار نفس پرست اور زمانہ ساز تھے تو ان کے احکام نے یقین مفاد عامہ کی بجائے خود اپنے مفاد کو پیش نظر رکھا ہوگا اس بات کو واضح کرنے کے لیے پوپ الیگزنڑ ششم اس نے اپنے ناجاہز بیٹے کارڈنیل بنا دیا گیا جس کے بعد کارڈنیل کا منصب اہم ہوتا ہے قانونا کوئی ایسا شخص کارڈ لینل نہیں بنایا جا سکتا تھا جو ازواجی رشتے کے باہر پیدا ہوا ہوں پوپ نے اپنے نجائز بیٹے کو ایک اور شخص کا بیٹا ٹھہرایا اور اس کی تائید بھی باقاعدہ ایک فرمان جاری کیا پوپ کا ہر فرمان عسیایت کے لئے قابل قبول ھے اور لاہق پابندی ہوتا ہے اور چوں چرا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی ۔ چنانچہ سیرز بورجیا کو کارڈینل مان لیا گیا جبکہ پوپ سیکس چہارم جس کے خود کی ناجائز بچے تھے سیریز بورڈ یہ کو کئی برس پہلے ناجائزاولاد کہہ چکا تھا جب سیرز بورجیا کی عمر 30 سال کی ہوئی تو اس کو کلیسای زندگی سے نجات حاصل ھوی اور اس میں فوجی زندگی بسر کرنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر دشواری یہ تھی کہ ایک بار کلیسا سے وابستہ ہونے کے بعد اس کو چھوڑنا قانون جائز نہیں تھا پوپ الگزینڈر نے فورا دوسرا فرمان جاری کر دیا جس میں کہا کہ چونکہ سیریز بورڈ یہ میرا نجائز بیٹا ہے اس لیے وہ کارڈنیل کا المقدس منصب پر فائز نہیں ہوسکتا اس فرمان کو بھی سب نے بے چون و چرا مان لیا کیونکہ آپ کا فرمان نہ ماننے والے مرتد ٹھہراے جاتے تھے پوپوں کی ایسی بے راہ روی کے ہزاروں داستانوں کی تاریخ بھری پڑی ہے ان کے اختیارات لامحدود تھے وہ لوگوں کا ہر گناہ معاف کر سکتے تھے وہ لوگوں کو عیسائی برادری سے خارج کر کے ان کا زندہ رہنامحال کر دیتے تھے کیونکہ جو شخص برادری سے خارج کیا جاتا تھا اس ساری برادری کو قطع تعلق کرنا پڑتا تھا ایسے شخص کو قتل کر دینا بھی جائز تھا وہ بڑی بڑی رقمیں لے کر گناہوں سے برات کی دستاویزی جاری کرتے تھے اور اس طرح جو روپیہ جمع ہوتا ہے اسے اپنے عیش و آرام پر خرچ کرتے بالآخر صدیوں پہ اور ان کے ہاں لیں مولویوں کے چہرہ دستیوں کو برداشت کرتے کرتے جب عوام عاجز آگئے تو چودھویی پندرہویں اور سولہویں صدیوں میں جانوں کلب نے جو 320 سے 340 تک زندہ رہا جان ہے جس نے جو 369 ہر سے چودہ سو پندرہ تک زندہ رہا مارٹن لوتھر نے جو 1483 سے پندرہ سو چالیس تک زندہ رہا اور جان کلون پندرہ سو سات سے پندرہ سو چونسٹھ تک زندہ رہا کی رسائی نظام اور پوپ کے آمرانہ قوانین کی اپنی جان کی بازی لگا کر سخت مخالفت کی ان سب کو پوپ نے بے دخل کر کے ان کا خون بدر کر دیا اور انہیں مروانے کی فکر کی اور تین تو بچ گئے مگر غریب ہے اس کو پکڑ کر زندہ جلا دیا گیا اور بھی بہت سی مثلاً ہی کی کوششوں سے رفتہ رفتہ کی سزا کا زور ٹوٹ گیا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button