بلاگز

غربت کیا ہے؟

غربت ایسی صورت حال ہے جس میں انسان اپنی کم سے کم جسمانی ضروریات کو پورا نہیں کر پاتا۔ اس کے پاس اتنے وسائل دستیاب نہیں ہوتے جو اس کی روز مرہ کی ضرورتیں پوری کر سکیں۔ خوراک، لباس، مکان وغیرہ کی عدم دستیابی وغیرہ غربت کے زمرے میں آتے ہیں۔غربت کو دولت کا فقدان سمجھا جاتا ہے لیکن غربت بنیادی ضرورتوں سے محرومی کا نام ہے۔ غربت بہتر معیار زندگی سے دور کر دیتی ہے۔ ایک غریب شخص کسی بھی طرح بہتر آساءشات وغیرہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ غریب شخص کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوتے ہیں، اور اس کی ساری زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے۔غربت کی وجہ سے لوگ تعلیم اور شعور سے محروم رہتے ہیں اس طرح سہولیات سے محرومی کی وجہ سے اور سینٹری کے مسائل کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔ غریبوں کی اکثر آبادی دیہات میں رہائش پذیر ہوتی ہے جن کو بہتر زندگی کی سہولت میسر نہیں ہوتیں۔ وہ تعلیم اور جدید آسائشوں وغیرہ سے محروم ہوتے ہیں اور نچلی سطح کی زندگی بسر کرتے ہیں۔لوگ انتہائی غربت کی وجہ سے سڑکوں پر سوتے ہیں اور گندگی کے ڈھیروں میں کھانے کی اشیاء تلاش کرتے ہیں۔ آج بھی، اکیسویں صدی میں لوگ جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ غربت کا شکار انسان بمشکل اپنے جینے کا سامان کرتا ہے۔ لوگ ساری زندگی غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔ محنت مزدوری اور مشقت کے تمام کام غریبوں کے زمہ ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کو قابل ذکر اجرت وغیرہ نہیں ملتی، جس سے ان کی غربت کی کمی کی راہیں روشن ہو سکیں۔

پاکستان میں بہت سے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ غربت کی کئی وجوہات ہیں جو کہ پیچیدہ ہیں۔ غلامی جنگیں یا پسماندہ خاندانی پس منظر کئی نسلوں سے غربت کو ساتھ لے کے چلتے ہیں۔  اس کے علاوہ آبادی، بےروزگاری، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور ناقص پالیسیاں وغیرہ  اس کی وجوہات ہیں۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام کی فلاح پر خرچ نہیں ہوتا۔ اور حکومتیں غربت کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات نہیں کرتیں۔ جس کی وجہ سے غربت کم ہونے کی بجائے بڑھتی جاتی ہے۔ 

غربت اور جرائم کے مابین براہ راست تعلق ہے۔ لوگ غربت کی وجہ سے تنگ آکر غلط کاموں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ ڈاکہ زنی اور چوری کے کام کرتے ہیں۔ دہشت گرد بن جاتے ہیں۔ اور اپنی محرومیوں کا بدلہ معاشرے سے لینا چاہتے ہیں۔ نشہ اور  منشیات وغیرہ کا کام، دہشت گرد تنظیموں کے ہتھے چڑھ جانا، یہ سب غربت کے نتائج ہیں۔ غربت و جہالت کی وجہ سے معاشرے میں جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔

دنیا میں انتہائی غربت کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جانی چاہیے۔ 
غریب خوراک، کپڑا، مکان، روزگار، تعلیم کی فراہمی اور جان مال کا تحفظ کسی بھی فلاحی ریاست کے ذمہ ہوتا ہے۔ غریب علاقوں میں بنیادی وسائل فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔ خوراک، پانی صحت کی سہولیات اور تعلیم وغیرہ کی فراہمی سب سے ضروری ہیں۔ اس کے لیے کام کرنا ہوگا۔ حکومتوں اور عالمی فلاحی اداروں کو مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی ہوگی اور اقدامات کرنے ہوں گے۔ غربت کی وجہ سے لوگوں میں شعور کی بہت کمی ہے۔ تعلیمی شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ لوگ تعلیم حاصل کر کے اور ہنر وغیرہ سیکھ کر غربت سے نکلنے کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں۔ حکومت کو تعلیم غریب کی پہنچ میں کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ غریبوں کو آسان قرض دیئے جائیں جن سے وہ کاروبار شروع کریں اور اپنی انتہائی غربت دور کریں۔ لوگوں کو روزگار فراہم کرنا بھی حکومت کا فرض ہے۔ 
غریبوں کی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک اور بیماریوں کے علاج وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے۔ حکومت کو غریبوں کے لئے علاج مفت کرنا ہو گا۔ اور سرکاری اسپتالوں کو بہتر بنانا ہو گا۔ حکومت کو سرکاری ادارے بہتر کرنے ہونگے اور ملکی وسائل کو عوام کی فلاح کے لیے خرچ کرنا ہوگا۔ بڑھتی ہوئی آبادی بھی سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ آبادی بڑھنے سے غربت کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے
وسائل کم ہیں اور آبادی زیادہ ہے۔ آبادی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ آبادی کا بم پھٹ جائے گا اور بہت سے مسائل جنم لیں گے۔ 

شاہانہ حکومتی طرز عمل بھی ملکی وسائل پر بوجھ بنتا ہے۔ ملکی آمدنی کم اور ریاست کے اخراجات زیادہ ہیں۔ اس کے لئے بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے قرضہ جات لئے جاتے ہیں۔ جن کی ادائیگی کے لیے سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ جس سے ملکی خزانے پر بوجھ پڑتا ہے۔ پھر ٹیکس بڑھایا جاتا ہے، اور مہنگائی کی ہوتی ہے۔ بہت سی اشیاء غریب کی قوت خرید سے باہر ہو جاتی ہیں، اور غریب پھر روزی روٹی کے چکر میں ہلکان رہتا ہے۔

بدعنوانی پاکستان میں غربت کی اہم وجہ ہے۔ لوگ لوٹ مار کر کے ملک کی دولت بیرون ملک جمع کرتے ہیں، اور ملکی خزانے خالی ہو جاتے ہیں۔ اگر حکمران بدعنوان نہ ہو اور دولت کی منصفانہ تقسیم ہو تو لوگ غربت کا شکار نہ ہوں۔ پاکستان کی وہ دولت جو کرپشن وغیرہ سے لوٹی گئی ہے اگر وہ واپس لائی جائے تو پاکستان کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ احتساب کا نظام بہتر ہو گا، تو کرپشن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جاگیردارانہ نظام کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔ایک مخصوص طبقہ ملک کی دولت پر قابض ہوتا ہے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارتا ہے۔ اور ملک کی باگ ڈور عوام میں سے  منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہو جو عوام کے مسائل کو جانتے ہوں۔
پاکستان کی کمزور معیشت غربت کی اہم وجہ ہے۔ بہتر پالیسوں اور حکمت عملیوں سے معیشت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ صنعت اور زراعت کو استحکام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کو ترقی دی جائے تو روزگار کے موقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ زراعت ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پسماندہ کسانوں کو مضبوط کرنا ہو گا۔  زراعت کو ترقی دیں گے، تو ملکی معیشت مظبوط ہو گی۔ پاکستان کی صنعت  بھی بہت کمزور ہے۔ دہشت گردی اور ملکی حالات کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری بہت کم ہے۔چھوٹی صنعتوں کو کارآمد بنانا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ 

حکومت نے غریبوں کے لئے بہت سے پروگرامز وغیرہ شروع کئے ہوئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ اور احساس پروگرام کے نظاموں کو صاف شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ زیادہ تر یہ پیسہ غریبوں کی پہنچ سے دور ہوتا یے۔ اور یہ ان لوگوں کو ملتا ہے جو اس کے حقدار نہیں ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس ضمن میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔

اسی طرح معاشرے میں دولت چند ہاتھوں میں نہ رہے۔ بااثر لوگ اپنی دولت کا حصہ غریبوں میں تقسیم کرتے رہیں۔ اور اسلامی طریقے کے مطابق زکوٰۃ وغیرہ کا نظام رائج ہو جس سے غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ہمیں بھی غریبوں کی جس حد تک ممکن ہو مدد کرنی چاہیے۔ اگر آپ خوشحال ہیں تو بد حالوں کی مدد کریں۔ اپنا پیسا غریب غربا پر لگائیں۔ یقینا اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے لیے اجر و ثواب اور غریبوں کی دعائیں آپ کو سکون سے نوازیں گی۔ ہمیں غربت کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ غربت کا خاتمہ، خوشحال پاکستان! انشاللہ۔
تحریر: فاروق زمان

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button