بلاگز

تحریک لبیک مارچ اور مطالبات تحریر: احسان الحق

پیرس میں 19 سے 21 اکتوبر تک، تین روزہ FATF فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا. اس اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکالنے یا گرے لسٹ میں برقرار رکھنے جیسے اہم فیصلے ہونے تھے. حسب معمول، حسب توقع اور حسب روایت ادھر پیرس میں FATF کا اجلاس شروع ہوا اور ادھر کالعدم تحریک لبیک کے کارکنان اکھٹے ہونا شروع ہو گئے. انتہائی ناخوشگوار اور بھدا اتفاق یا ریاست پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے کہ جب FATF کا اجلاس ہوتا ہے اسی وقت کالعدم تحریک لبیک ملک کے طول وعرض میں اپنے مطالبات لے کر باہر سڑکوں پر نکل آتی ہے. پاکستان نے FATF کے 34 نکاتی مطالبے میں سے 33 پورے کر دئیے ہیں. ہر بار پاکستان کی کارکردگی کو سراہا جاتا ہے مگر گرے لسٹ میں بھی برقرار رکھا جاتا ہے.

کالعدم تحریک کا اصل مسئلہ ہے کیا. بلکہ مسئلے سے پہلے دیکھتے ہیں کہ کالعدم تحریک لبیک ہے کیا؟ کب، کیسے اور کیوں معرض وجود میں آئی؟میں نے پہلی بار اس تحریک کا نام اور اور اس کے سابق مرحوم امیر خادم رضوی کا نام فیض آباد دھرنے کے دوران سنا، جو کہ ایک دھرنا تھا مگر اس کا اختتام انتہائی بھیانک طریقے سے ہوا. درجن سے زیادہ پولیس کی گاڑیاں نذر آتش کی گئیں، غالباََ متعدد پولیس اہلکار شہید ہوئے اور درجنوں بلکہ بیسیوں اہلکاروں کو شدید زخمی کیا گیا، ان میں سے کچھ ایسے افراد یا پولیس اہلکار ایسے بھی تھے جن کی آنکھیں ضائع ہو گئی تھیں. یہ کالعدم تحریک کی جانب سے ریاست اور قوم پر پہلا خطرناک وار تھا. فروری 2016 میں ممتاز قادری کی پھانسی پر تحریک لبیک باہر نکلی تھی اور مظاہرے بھی کئے گئے تھے مگر وہ مظاہرے نسبتاً پرتشدد نہیں تھے. فیض آباد فسادات کے ساتھ ہی کالعدم تحریک کو نہ صرف ملک میں بلکہ سرحد پار بھی شہرت نصیب ہوئی.فیض آباد دھرنے کے منتظمین کون تھے اور اس دھرنے کے انعقاد کے اغراض ومقاصد کیا تھے، اس کے متعلق متعدد نظریات ہیں. ایک میرا نظریہ بھی ہے. ان تمام نظریات کی تفصیل یہاں مناسب نہیں. اس دھرنے کو بظاہر ختم نبوت کے ساتھ جوڑا گیا کیونکہ مبینہ طور پر ن لیگ کی حکومت نے ختم نبوت کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی یا کرنے کی کوششوں میں تھی. واللہ أعلم.

فیض آباد دھرنے کے بعد ناقابل یقین چیزیں دیکھنے کو ملیں. فیض آباد دھرنے کے بعد تحریک لبیک کے درمیان پیسوں کی تقسیم پر جھگڑا ہو گیا. آصف جلالی کا جھگڑا اتنا شدت اختیار کر گیا اس نے ایک نجی ٹی وی پر آتے ہوئے سب کھول کھول کر بیان کر دیا. بعد میں آصف جلالی نے خادم رضوی اور کالعدم تحریک کے ساتھ لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی تنظیم بنالی جس کا نام ہے تحریک لبیک یا رسولﷺ.صرف خادم مرحوم کے ساتھ آصف جلالی کا جھگڑا نہیں ہوا بلکہ تقریباً سب لوگوں نے کالعدم تحریک اور خادم مرحوم سے راہیں جدا کر لیں. کسی نے پیسوں کی غلط تقسیم کا الزام لگایا تو کسی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تحریک دشمنوں کے اشارے پر ناچ رہی ہے. خادم اور کالعدم تحریک سے علیحدگی اختیار کرنے میں سرفہرست یہ لوگ ہیں، ‏گولڑہ شریف، پیر سیال، عید گاہ شریف، آستانہ عالیہ چورہ شریف، پاکپتن، داتا دربار لاہور، پیر افضل قادری، مفتی حنیف قریشی، آصف جلالی. حتیٰ کہ ممتاز قادری کے والد نے ان پر پابندی لگا رکھی کے آپ یہاں ممتاز قادری کے مزار پر نہیں آ سکتے. 

کالعدم تحریک لبیک اور حکومت پاکستان کے درمیان معاہدے کی رو سے 19 اپریل تک ایوان میں قرارداد پیش کرکے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کو قانونی شکل دی جانی تھی. اس کے علاوہ بھی متعدد نکات تھے جن کی مدد سے کالعدم تحریک لبیک نے اپنے گرفتار بندوں کو چھڑوایا تھا اور تمام مقدمات واپس لے لئے گئے تھے. حکومت اپنے وعدے کے مطابق قرارداد کا ڈرافت تیار کرکے کالعدم تحریک لبیک کے مرکز پہنچی.مئی میں پنجاب کے انسپکٹر جنرل انعام غنی نے ایک پریس کانفرنس کی تھی. ہو سکتا ہے وہ پریس کانفرنس آج بھی کسی نیوز چینل کے پاس یا کسی یوٹیوب چینل پر موجود ہو.آئی جی صاحب کی پریس کانفرنس کے مطابق دو وفاقی وزراء اور پنجاب پولیس پر مشتمل ٹیم ان کے مرکزی دفتر ملتان روڈ گئی اور ان کو قرارداد کا متن دکھایا. کمیٹی نے ان کی قیادت سے کہا کہ قرارداد کا متن دیکھ لیں، اگر کوئی تبدیلی کروانی ہے تو کروا دیں کیوں کہ آئندہ اسمبلی اجلاس میں یہ قرارداد منظوری کے لئے پیش کر دی جائے گی. کالعدم تحریک لبیک کے مرکز نے قرارداد کو دیکھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ بس فرانسیسی سفیر کو نکالا جائے اور باقی باتیں بعد میں ہونگی. کمیٹی نے بتایا کہ سفیر کو نکالنے کے لئے ہی تو قرارداد پیش ہو رہی ہے. مختصر، کالعدم تحریک والوں نے قرارداد کا متن دیکھنے سے انکار کر دیا اور کمیٹی واپس آ گئی. باغی اور فسادیوں کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ ان کا ایک مطالبہ تسلیم کرو تو وہ فوراً پہلے مطالبے سے مکر جاتے ہیں اور فوراً دوسرا مطالبہ رکھ دیتے ہیں. دوسرا مطالبہ مان لیا جائے تو اس سے مکر کر فوراً تیسرا مطالبہ رکھ دیتے ہیں کیونکہ ان کامقصد تصفیہ نہیں بلکہ انتشار ہوتا ہے.

کمیٹی کے مرکز کے دورے کے بعد حالات خراب ہونا شروع ہوئے. سب سے پہلے تحریک اور تحریک کے امیر نے ریاست کو سفیر نہ نکالنے پر دھمکیاں دیں. پھر کالعدم تحریک کے امیر نے شیڈول چہارم میں رہتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کی . قرارداد پیش کرنے کی آخری تاریخ سے کچھ دن قبل امیر موصوف کو ممنوعہ علاقے سے گرفتار کر لیا گیا. یاد رہے کہ حکومت پنجاب نے امن وامان برقرار رکھنے، فرقہ واریت اور انتہاپسندی کے تدارک کے پیش نظر سعد رضوی کو شیڈول چہارم میں ڈال رکھا تھا. کالعدم تحریک کے امیر کی گرفتاری کے خلاف پورے ملک میں بدمعاشی، غنڈہ گردی اور توڑ پھوڑ کا جو بازار گرم کیا گیا وہ پوری دنیا دیکھ چکی ہے. دو پولیس اہلکاروں کو تشدد کرکے شہید کر دیا گیا تھا اور 300 سے زیادہ لوگوں کو مستقل یا عارضی اپاہج بنا دیا گیا تھا. ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی گاڑیوں کو، دوکانوں کو، گھروں کو، کچھ فیکٹریوں کو اور بازاروں کو نذر آتش کیا گیا. یاد رہے کہ یہ 2021 کے پہلے فسادات کی بات ہو رہی ہے.

حکومت نے وعدے کے مطابق آئندہ اسمبلی اجلاس بمطابق 22 اپریل کو قرارداد پیش کر دی. میانوالی سے رکن قومی اسمبلی امجد خان نیازی نے قرارداد پیش کی. قرارداد کو مسترد ہونا چاہئے تھا اور مسترد کر دی گئی. قرارداد پیش ہونے سے پہلے، مطلب 22 اپریل سے پہلے خونی کھیل کھیلا جا چکا تھا، لوٹ مار، جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور عام پاکستانیوں اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا جا چکا تھا.حکومت پنجاب نے کالعدم تنظیم کے امیر سعد رضوی کو شیڈول چار کی خلاف ورزی پر گرفتار کرلیا. گرفتاری کے ساتھ ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے. ان فسادات میں جس قدر بربریت اور ملک دشمنی کے ساتھ ساتھ جہالت کا مظاہرہ کیا، سب ناقابل بیان ہے. دو پولیس اہلکاروں کو تشدد کے شہید کر دیا گیا. 300 سے زیادہ پولیس اہلکاروں اور عام عوام کو مستقل یا عارضی اپاہج بنایا گیا. قومی املاک اور عوام کے اثاثوں کو بڑی بے رحمی سے نذر آتش کیا گیا.

سعد رضوی کی گرفتاری والا مقدمہ چلتا رہا اور عدالت عالیہ لاہور میں مقدمے کی سماعت چلتی رہی. رواں  ماہ کے شروع میں عدالت عالیہ نے حکومت پنجاب کی جانب سے سعد رضوی کی نظربندی کو کالعدم قرار دے دیا. حکومت نے عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی درست جمع کروا دی. عدالت عظمیٰ نے متعدد نقائص نکالتے ہوئے اعتراضات لگا کر مقدمہ واپس عدالت عالیہ لاہور کو بھیج دیا اور حکم دیا کہ دوبارہ مقدمے کے آئینی اور عدالتی پہلو دیکھے جائیں.کالعدم تحریک لبیک لاہور کی عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق سعد رضوی کی رہائی چاہتی ہے اور کالعدم تحریک کو عدالت عظمیٰ کا فیصلہ نظر نہیں آتا. حکومت پنجاب اور وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مقدمہ ابھی عدالت میں ہے، عدالتی فیصلے کے مطابق سعد کو رہا کیا جائے گا یا نظربندی برقرار رکھی جائے گی.

آج بتاریخ 28 اکتوبر کو یہ کالم لکھتے وقت، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کالعدم کا مارچ اسلام آباد کی طرف روانہ ہو چکا ہے اور سادھوکی کے مقام پر کالعدم تحریک لبیک کو روکنے کے لئے پولیس نے مزاحمت کی مگر کالعدم تحریک کے شرکاء نے پولیس اہلکاروں پر اندھادھند فائرنگ کر دی جس سے 4 پولیس اہلکار شہید اور 263 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں. گزشتہ روز انسپکٹر جنرل پنجاب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مجموعی طور پر تازہ ترین فسادات سمیت رواں سال پولیس اہلکاروں کی شہادت 7 تک اور زخمیوں کی تعداد 1000 سے زیادہ ہو چکی ہے.ادھر جڑواں شہروں کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے اور فیض آباد کو فوج نے اپنی حفاظت میں لیتے ہوئے اپنی نفری تعینات کر دی ہے. اسلام آباد کی طرف مارچ سے پہلے حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کی قیادت کے مابین جہلم سے پہلے یا اس کے مضافات میں کہیں موٹروے پر حکومت پنجاب، وفاقی وزارت داخلہ اور سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ مذاکرات ہوتے رہے. حکومت پاکستان نے مذاکرات کامیاب ہونے کا اعلان کیا، بعد ازاں جس کی تصدیق کالعدم تحریک لبیک کی قیادت نے بھی کی.وفاقی وزیر شیخ رشید کی پریس کانفرنس کرتے بتایا کہ کالعدم تحریک لبیک کے مطالبے پر ریاست نے اہم جرائم میں ملوث اور قید 350 مجرموں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مقدمات واپس بھی لئے جائیں گے. اسی شام کو سوشل میڈیا اور میڈیا کی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے 300 یا اس سے بھی زیادہ لوگوں کو رہا کر دیا ہے. جس پر شیخ رشید نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وعدے کے مطابق 300 لوگوں کو رہا کیا مگر کالعدم تحریک لبیک نے دھرنا اور مارچ ختم نہیں کیا.
پہلے دن سے لے کر ابھی اکتوبر کی 28 تاریخ تک غریب عوام، غریب ملک اور نہتی پولیس کا نقصان ہو رہا ہے. مبینہ طور پر استعمال کرنے والے اور استعمال ہونے والے دونوں مزے میں ہیں مگر عام پاکستانیوں کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے. 2015 سے ابھی اکتوبر 2021 تک کالعدم تحریک لبیک نے انتہا پسندی اور شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیسیوں پولیس اہلکاروں کو شہید، ہزاروں اہلکاروں کو زخمی کرتے ہوئے عارضی یا مستقل اپاہج بنا چکی ہے. توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار میں جو نقصان ہوا ہے وہ ناقابل گنتی اور ناقابل اندازہ ہے.

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button