بین الاقوامی

کابل میں ہسپتال کے باہر دھماکہ 20 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی

طالبان کی حکومت پر بڑا سوال کھڑا کر سکتا ہے

کار بم دھماکے کے بعد اسپتال میں داخل ہوئیں جہاں داعش اور طالبان کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں

کابل کے سب سے بڑے فوجی ہسپتال سردار محمد خان داؤد ملٹری ہسپتال مرکزی دروازے پر یکے بعد دو بم دھماکے ہوئے جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے طالبان حکومت کے نائب ترجمان بلال کریمی نے دھماکوں میں 20 سے زائد افراد کی ہلاکت اور 40 کے قریب زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے دھماکوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی جبکہ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکے کار میں موجود بارودی مواد کے ذریعے گئے جس کے بعد داعش کے جنگجو ہسپتال میں داخل ہوئے جہاں ان کی موجود مسلح افراد طالبان سے جھڑپ بھی ہوئی تاہم اس بارے میں طالبان کی جانب سے کوئی تصدیق یا انکار نہیں کی گئی افغانستان میں ایسی صورتحال کا ہونا طالبان کی حکومت پر بڑا سوال کھڑا کر سکتا ہے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button