بلاگز

فسلفہ کیا ھے

اس زمانے میں ایسے تمام علمی شعبوں کا ایک ہی نام ھے اور وہ ھے ساہنساس زمانے میں ایسے تمام علمی شعبوں کا ایک ہی نام ھے اور وہ ھے ساہنس

دنیا کے مختلف فلاسفروں کے فلسفے کے بارے میں نچوڑ

1۔ تعریف ایک خاص تعلق ھے۔ درمیان بعض علامتوں عموما تحریر یا تقریر جس میں الفاظ استمال کیے جاتے ھے۔ اور شے کے معروف کےمعروف سے مراد ھے۔ جس کی تعریف کی جاے۔ خلاصہ یہ ھوا۔ کہ تعریف اشیا کی بذریعہ الفاظ بیان کی جاتی ھے۔ با الفاظ دیگر تعریف ایک علامت کے معنی ہیں۔جو بہ تصریع بیان ھوے ہیں۔ لہذا ہر تحیقق جو فلسفہ کی تعریف کے بارے میں ھو۔ اس سوال سے شروع ھونی چاہیے۔ کہ لفظ فلسفہ کے معنی کیا ھے۔ پس یہ سوال پیدا ھوتے ہی ایک احتلاف راے سے مڈ بھیڑ ھوتی ھے۔ اور اختلاف بھی عظیم اختلاف ۔ بات تواتنی ہی ھے اصلاع فلسفہ سے کیا مراد ھے۔ اس اختلاف پر نظر کرکے ہمارا پہلا کام یہ ھوگا۔جو تعریف پہلے تجویز ھوچکی ھے۔ان سب کو فراہم کرلیں۔ اور ان پر نظر ڈالیں۔ اور ایسی تعریفیں منتخب کر لیں جو عمدہ سمجھی گی ھو۔ اور جن کو ایک گروہ نے مان لیا ھو۔کیا یہ مکمن ھے ان بیانات کو جمع کرکے ہم تعریف کو ایک فقرے کے ذریعے ادا کر دیں۔ ایسا جامع فقرہ جو گزشتہ اور موجودہ دونوں حق ادا کر سکے۔ ایسے فقرے کے ملنے کے امکان اور عدم امکان کا فصلیہ یہاں نہیں ھوسکتا ۔ ہم اس مقصد کی طرف رجوع مگر ابھی ہم ایسی تعریفات پر اپنے بیان محددود کر دیے گے۔

2۔ ہر فلطیاس فانطیکوس کے اس بیان پر کچھ اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ کہ لفظ فلسفہ کا استمال اس معنی سے کہ وہ ایک علم ھے۔ جو فیثا غورث سے شروع ھوا ہیرودوس نے سب سے پہلے فلسیفانہ طور سے غور کیا ۔ فعل کو استمال کیا تھا۔ گویا خروسوس لن کہتا ھے۔کہ اس نے کیونکر سنا علم کے شوق سے سولن نے دور دراز ممالک کا سفر کیا۔ وہ فلسفہ کی تحیقق میں مصروف تھا۔ یہ فقرہ شوق علم سے حاصل مصدر کا ترجمہ معلوم ھوتا ھے۔ لفظ تفلسف نیودندس اسی معنی سے کہتا ھے۔ کہ اے تھنس والے پریلس کے دفن کے بے نظیر خطبہ میں کیا کہے گے ہیں۔ ہم عاشقان دانش ھے ہم فلسفے کی مشق کرتے ھے۔ہم میں نساہیت نہیں ہم مرد میدان ھے۔

سیرو کہتا ھے فلسفہ ایک بہترین علم ھے۔ اور عملا بہترین اشیا کے علم کے استمال کی قابلیت ھے۔ معلومات کے جس صغیہ میں اس کی تحصیل مکمن ھو فلسفہ کے نام سے موسوم ھوگا۔ اس لفظ کا استمال معانی میں اس بات کو ظاہر کرتا ھے۔ کہ علم ایک مخصوص احاطہ ھے۔ جس کا دریافت کرنا کسی عملی ضرورت پر موقوف نہیں ھے۔ بلکہ علم کی شکل میں اس میں کوی شبہ نہیں ھے۔ کہ حفاظت ذات یا ایسا ہی کوی عملی مقصد ہر علم کی تصیل کے ساتھ لگا رہتا ھو۔ پس یہ سب سے بڑھی ھوی بات ھے۔ احاطہ علمی کا جس پر انسان خالص شوق علم بحث کرتا ھے۔ بیغر اس کے بہث و مباحثہ سے کوی نفع ذاتی ھو یا اس سوساٹی کا نفع ھو جس میں طالب تحیقق رکھتا ھو۔ اس زمانے میں ایسے تمام علمی شعبوں کا ایک ہی نام ھے اور وہ ھے ساہنس۔ چنانچہ ساہنس اور فلسفہ کی اصل ایک ہی ھے۔ ایک ہی جڑ سے دونوں شاخیں نکلی ھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button