سیاست

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے ہاتھ ملانے کا مطلب ہے کرپشن کو تسلیم کر لینا

آج ان کی باتیں سنیں جائیں تو ان سے بڑا کوئی حاجی نظر نہیں آتا

عمران خان نے کہا میری دو خاندانوں سے ذاتی دشمنی نہیں دوستی ہوا کرتی تھی لیکن اگر شہباز شریف سے ہاتھ ملایا جائے تو کرپشن تسلیم کرنا مطلب ہے

عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا سنہری دور شروع ہوا تو البیرونی اور ابن بطوطہ جیسے دانشوروں کا بڑا ہاتھ مقام تھا اور دنیا میں جہاں بھی جاتے تھے ان کی بڑی قدر و منزلت کی جاتی تھی ریاست مدینہ میں میرٹ کی بلادستی تھی اور میرٹ کی بنیاد پر لوگوں کو عہدوں پر فاہز کیا جاتا تھا۔ وزیراعظم نے کہا جب قومیں ترقی کرتی ھے تو دانشور ان کے رول ماڈل بن جاتے ھے۔ کیونکہ وہ قوم کی رہنمائی کرتے ہیں ان کا قبلہ درست کرتے ہیں اور جب سکولر ہی غلط راستوں پر چلے جاتے ہیں تو تہذیب زوال کا شکار ہوجاتی ہیں لیکن سکالر بھی غلط راستہ پر چلے جاتے ہیں وزیراعظم نے کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کو دانشوروں کی بہت ضرورت ہے عمران خان نے مزید کہا ہمارے لوگوں کو اسلام کی تاریخ کا ہی نہیں پتا لوگوں کو جنگی یاد ہے لیکن لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ دنیا کی تاریخ میں اتنا بڑا انقلاب جنگوں کی وجہ سے نہیں آیا عمران خان نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ہاتھ ملانے کا مطلب ہے کرپشن کو تسلیم کرنا یہ لوگ پاکستان اور عوام کا پیسہ کھا کے بیرون ملک بھاگ گئے جس کی وجہ سے پاکستان اور پاکستان کی عوام کے لیے پیچھے مشکلات کھڑی کرتے ہیں اور آج مہنگائی ان کی کرپشن کی وجہ سے ہے کہ پاکستان کو انہوں نے قرض کے اندر ڈبو دیا اور عوام کے لیے مشکلات کھڑی کردیں آج پاکستان میں مہنگائی کی وجہ نواز شریف کی کرپشن ہے جو پیسہ اس نے پاکستان سے باہر کے ملک اپنے عیش و آرام کے لیے رکھا اور آج جس کی قیمت پاکستان کی عوام مہنگائی کی صورت میں ادا کر رہی ہے یہ لوگ ملک کےوفا دار نہیں ہیں ہے آج ان کی باتیں سنیں جائیں تو ان سے بڑا کوئی حاجی نظر نہیں آتا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button