بلاگز

لباس، فحاشی اور عورت


لباس انسانی جسمانی اہم ضرورت ہے۔ لباس آپ کی کردار اور شخصیت کا پتا دیتا ہے۔ ایک انسان جس طرح کا لباس زیب تن کرے، اس کی شخصیت کو ویسا ہی خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں فیشن کے نام پر طرح طرح کے ملبوسات اور پہناوے عام ہیں، جن کے پہننے کا تعلق، تہذیب، کردار اور شخصیت سے کہیں بڑھ کے عریانی سے ہے۔

عریانی کا مطلب ہے بغیر لباس کے، عریانی درس نمائش کا نام ہے۔ لوگ مختصرترین لباس زیب تن کرتے ہیں اور اس کو فیشن اور روشن خیالی کا نام دیا جاتا ہے۔ مغرب کی اندھا دھند تقلید کی وجہ سے سے ان کا کلچر اور فیشن ہمارے ہاں عام نظر آتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اسلامی مشرقی تہذیب و ثقافت اور تعلیمات سے بے بہرہ ہے لوگ اپنی اقدار اور روایات کو چھوڑ کر مغربی معاشرے کی تقلید میں لگے ہیں جو کہ ہمارے معاشرے کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے۔

ہمارا معاشرہ بد امنی کا شکار ہے، ہم بےراہ روی کی ڈگر پر چل پڑے ہیں۔ خصوصا نوجوان نسل۔آج کل تو  لباس کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیوں میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ لڑکیاں پینٹ شرٹ اور اس طرز کے دیگر لباس پہنتی ہیں۔ اور لڑکے کرتا پاجامہ، لمبے بال، پونیاں زیور وغیرہ پہن کر عورتوں کی مشابہت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دراصل ہم ذہنی غلامی کا شکار ہیں۔ ایک دوسرے کی تقلید میں فیشن کے نام پر خود بھی تباہ ہو رہے ہیں اور اپنی اقتدار کا بھی جنازہ نکال رہے ہیں۔

عورتوں کے لباس سے پہلے دوپٹا سروں سے گلوں اور کاندھوں پر اور پھر سرے سے ندارد ہو کر رہ گیا۔ آستینیں کم اور پھر غائب ہو گئیں۔ باقی لباس اور پہناووں کا بھی یہی حال ہے جو کہ چھپانے کے مقصد کے لیے کم اور دکھاوے کے لیے زیادہ ہیں۔یہ کھلم کھلا فحاشی اور بے حیائی ہے۔ لوگ فحاشی اور فیشن کی چمک دمک کے پیچھے لگ کر اس کو خوشنما تصور کرتے ہیں جو کہ سراسر فریب ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بے ہودہ لباس پہنے گے تو وہ فیشن ایبل دکھائی دیں گے۔  حالانکہ لباس شخصیت کے لئے ہوتا ہے جو آپ پر اچھا لگے۔
ہمارے معاشرے کی عورتیں اور لڑکیاں مغربییت کی تقلید میں اس حد تک گئی ہیں کہ اب جینز، ٹائیٹس، ٹاپس، اور شارٹس  وغیرہ کا استعمال نہایت عام ہے۔ اور ان پہناووں کو فیشن کا نام دیا گیا ہے۔ اور بھی کئی ایسے  پہناوے ہیں ہیں جو فیشن کے نام پر عام استعمال میں ہیں۔ لیکن ان کا استعمال کہیں سے بھی اخلاقیات کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ لباس کے زریعے کھلم کھلا فحاشی پھیلانے کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔ لباس کی تراش خراش ایسی ہوتی ہے جس کا مقصد چھپانا نہیں ہیں ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ اور بس نام کا ہی پہناوا ہوتا ہے۔اور ایسے عریاں طرز کے لباس ہماری مذہبی اور اخلاقی تعلیمات کا جنازہ نکالنے کے لیے کافی ہیں۔ 
جو  عادات و اطوار ہم نے مغربی معاشرے سے اپنائے ہیں اور ہم ان کا اپنانا اپنے لئے قابل فخر گردانتے ہیں۔ انھوں نے ہماری اخلاقیات اور اقدار کو تباہ کر  کے رکھ دیا ہے۔
لوگ میڈیا شوبز کے لوگوں اور دوسری مشہور شخصیات کو فالو کرتے ہیں۔ لباس کے معاملے میں شوبز کے لوگوں کی بات کرنا ہی فضول ہے۔ اخبارات میگزین اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر ایکٹروں موسیقاروں اور دیگر فلمی ستاروں کی جو تصاویر گردش کر رہی ہوتی ہیں وہ عریانی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لوگ ان کی دیکھا دیکھی ایسے عریاں طرز کے لباس پہنتے ہیں جو کہ ہماری تہذیب و ثقافت اور روایات کے بلکل منافی ہے۔ بلکہ مزہب، تہذیب و ثقافت اور اقدار وغیرہ تو آج کل کے لوگوں کے لیے بلکل دقیانوسی اور آؤٹ ڈیٹڈ چیزیں ہیں، اور بیشتر لوگ ان پر بات کرنا یا ان کو کچھ سمجھنا ضروری خیال نہیں کرتے۔ بلکہ لوگ عریانی، فحاشی اور بے حیائ کے کاموں کو برا سمجھنا چھوڑ چکے ہیں۔ کیونکہ یہ چیزیں عام ہیں اور جو چیزیں عام ہو جائیں، لوگ ان کو معیوب سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔  بے حیائی ہر گلی کوچے، گھروں اور بازاروں تک جا پہنچی ہے۔
فحاشی ایک کھلی ہوئی برائی ہے جو سر عام کی جائے۔ ہم روزمرہ بہت سی ایسی باتیں دیکھتے ہیں جو فحاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ لیکن ہم ان پر چپ رہنا ہی بہتر خیال کرتے ہیں۔ اسلام میں میں ایسے لباس کا استعمال منع کیا گیا ہے۔ جو جسم کی نمائش کرے اور فحاشی پھیلائے، لیکن لوگوں کے لیے مزہب کی تعلیمات ناقابل برداشت ہیں اور وہ اپنی آزادی کے طور پر اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
پھر آج فحاشی پھیلانے میں عورت سب سے زیادہ آگے ہے۔ آج کل چلنے والے فلموں ڈراموں میں دیکھیں تو مردوں نے پورا لباس پہنا ہوتا ہے اور اس کے بر عکس عورتوں کا لباس نہایت ہی مختصر ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔” اور ہم قیامت کی نشانیوں کو سامنے رکھتے ہیں، لیکن بے حیائ کے کاموں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ 
عورتیں اور لڑکیاں سرے بازار سڑکوں، بازاروں اور پارکوں وغیرہ میں مختصر ترین لباس پہن کے گھومتی ہیں۔ عورتوں نے فیشن کے نام پر نمائش کو اپنا  وطیرہ بنا لیا ہے۔ اور تعلیم یافتہ عورتیں بھی ایسے کام کرتی دکھائی دیتی ہیں جن میں اخلاقیات دیکھنے کو نہیں ملتی،۔ عورتوں کے سروں پر دوپٹہ نہیں ہے بال ننگے ہیں اور خیالات بھی ایسے۔  انہوں نے کیا تہذیب اور نسل پروان چڑھانے ہے۔ اور لگتا ہے کہ آج کل تعلیم لوگوں کی اخلاق سنوارنے کی بجائے بگاڑنے کا کام کر رہی ہے۔ آج  کسی بھی چیز کی تشہیر کرنی ہو، عورت اس کے لیے ہتھیار ہے۔ بے حیائ کے کاموں کے لیے عورت کو استعمال کیا جاتا ہے اس کو سجا کر اس کی نمائش کی جاتی ہے۔ اپنے فوائد اور مقاصد کے حصول کے لئے عورت کے جسم کو مہرہ بنایا جاتا ہے۔ موٹر سائیکل، گاڑی اور کئی چیزوں کے اشتہارات پر عورت کا چہرہ ہوتا ہے۔ عورت نے فیشن کے لئیے تمام اخلاقیات اور اقدار کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ لوگ بے حیائی کو فروغ دیتے ہیں، جو کہ بعد میں صرف عورت کے زمے لگ جاتی ہے۔ یہ جدید تہذیب اور فیشن نہیں بلکہ زمانہ جاہلیت کے کام ہیں۔ اسلام سے قبل بھی لوگ ایسے ہی فحاشی کے کام کرتے تھے۔ عورتیں اپنی زیب و زینت دکھاتی تھیں۔ اسلامی تعلیمات نے عورتوں کو تحفظ اور پردے کا حکم دیا اور فحاشی اور عریانی کے کاموں سے منع فرمایا، یہ تعلیمات انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔  آزادی کے نام پر فحاشی اور بے حیائی کی اجازت اسلام میں نہیں ہے۔

عورتوں کو ایسا لباس زیب تن کرنا چاہیے جو کسی بھی طرح سے فحاشی پھیلانے کا سبب نہ ہو۔ لباس کا استعمال جسم کی نمائش کے بجائے اس کو ڈھانپنے کے لیے ہو۔ ایسا لباس پہنے جو اس کی زیب و زینت اور اپنے جسم کے مختلف حصوں کو مکمل طور پر چھپائے اور نمائش نہ کرے۔ لباس ایسا نہ ہو جو اس کی خوبصورتی کو نمایاں کرے۔ عورتوں کے فحاشی کے لباس پر پابندی ہونی چاہیے۔ اس طرح عورتوں کی بے جا نمائش کو بھی بند کر دیا جانا چاہیے۔ لباس کی بے پردگی نے پورے معاشرے کو بے شرم اور بے غیرت بنا دیا ہے۔ عورتوں کی بے پردگی کو عام کیا جارہا ہے۔ جس پر بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ 
اس کے علاوہ ہمیں بھی لباس کے زریعے سے سادگی اور حیا کو  فروغ دینا ہوگا۔ سادہ اور مکمل طرز کے لباس فحاشی کے خاتمے کے لیے اہم ضرورت ہیں۔ اپنی شخصیت اور مزاج کے مطابق لباس پہننا چاہیے۔ ایسا لباس جو آپ پر اچھا لگے، نہ کہ فیشن کے لیے ایسا لباس زیب تن کرنا جو کہ آپ کو مضحکہ خیز  اور فحش بنا دے۔  ایسے لباس کا انتخاب کریں جو آپ کی شخصیت، کردار، خیالات اور تہذیب سے میل کھاتا ہو، کیونکہ لباس ہی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

تحریر: فاروق زمان

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button