بلاگز

"Etienne Bottineau”ایک جہازراں تھا، جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم بھی تھا،


اس کی وجہ شہرت یہ تھی کہ وہ ایک ایسا فن جانتا تھاجو اس وقت کسی اور کی علم میں نہیں تھابوٹنیو ساحل سے سینکڑوں میل دور تک یعنی افق سے پار آتے ہوئے جہازوں کو دیکھ لیا کرتا تھاوہ جہاز کی آمد سے 4 دن پہلے آنے کی پیشگوئی کردیتاتھا اور یہ بھی بتا دیتا کہ سمندر سےساحل کی طرف کتنے جہاز آرہے ہیں یعنی ان کی تعداد صحیح صحیح کیا ہےاسے اپنے اس فن میں خاصی مہارت حاصل تھی اس فن سے وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو کافی حیران کردیتاتھا لیکن اس کے فن کیقدر کسی نے نہیں کی حکومت فرانس نے بھی اسی بے مول سمجھا اور اسی لیے وہ اس عمدہ فن کے ساتھ مٹی میں جا سویا مگر دوستوں اس بے قدری کی وجہ سے آج دنیا اس حیرت انگیز فن سے محروم ہے جسے بوٹنیو نوسکوپی کہا کرتا تھا،
بوٹنیو 1738 کو مغربی فرانس میں پیدا ہوا اسے پچپن ہی سے سمندر اور سمندری جہازوں سے بہت لگاؤ تھاپہلی بار وہ پندرہ سال کی عمر میں ایک تجارتی جہاز پر سوار ہوا اسے فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت مل گئی 1764 میں اسے موریشیوس آئلینڈ پر مقرر کردیا گیا یہاں اسے فری ٹائمز زیادہ مل جایا کرتی تھیوہ گھنٹوں بیٹھتا اپنے اردگرد ماحول پر غور کرتا اور فضا میں ہر چھوٹی سی چھوٹی اور بڑی سے بڑی تبدیلی پر غور کرتا وہ ماحول میں ہونے والی معمولی سی تبدیلی کو دیکھتا اور نوٹ کرتا،مزید چھ ماہ کے مشاہدات اور ان میں کامیابی کے بعد بوٹنیو نے محسوس کیا کہ اس نے ایک نئی سائنس دریافت کرلی ہے اب وہ افق سے پار یعنی جس حد تک انسانی آنکھ دیکھ سکتی ہے اس سے بھی بہت زیادہ دور جہاز کا پتہ لگا لیتا تھاحالانکہ وہ کشتی انسانی آنکھ یا دوربین سے دکھائی نہیں دے رہے ہوتے تھے،بوٹنیو کا کہنا تھا کہ جب کشتی یا جہاز سمندر کی لہروں پہ سوار ساحل کی طرف آرہے ہوتے ہیں تو ان سمندری لہروں کی وجہ سے ماحول بھی متاثر ہوتا ہے فضا میں یہ تبدیلی کوئ صاحب نظر دیکھ لے تو جہاز کے آنے سے پہلے اس کا اندازہ لگا سکتا ہے یہ ایک ایسا فن تھا جس کا وہی استاد تھا وہی شاگرد ان کے علاؤ کوئ بھی حتاکہ دوربین بھی اتنی دور سے آتے جہازوں کو نہیں دیکھ پاتی تھی اس نے اپنے اس نئ دریافت کو نوسکوپی کا نام دیا نوسکوپی کے فن کا وہ ماہر ہوگیا تھا اب اسنے ایک نیا کام شروع کیا وہ کام یہ کہ اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ شرطیں لگانا شروع کیں وہ شرطیں یہ ہوتی تھیں کہ وہ پیشگوئی کرتا کہ آئندہ دو یا تین دن تک موریشیوس کے ساحل پر ایک دو جہاز آنے والے ہیں دوسرے لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی انہیں اپنی آنکھوں سے یا دوربین سے دور دور تک کوئی جہاز دکھائی د یتا تھا اور نہ ہی انہیں اکثر آنے والے جہازوں کی اطلاع ہوتی تھی سو وہ شرط لگا لیتے تھے کہ یہاں کوئی جہاز نہیں آنے والی کیونکہ اس وقت موریشیوس کی بندرگاہ کچھ خاص مصروف نہیں ہوا کںرتی تھے کبھی کبھار کوئی جہاز یہاں کا رخ کر تا اور اسی لیے جب بوٹنیو شرط لگا لیتا تو لوگ دوربینیں لگا کے دیکھتے اور تاحد نظر سارا سمندر سنسان پڑا پاتے یہی وجہ تھی کہ لوگ بوٹنیو کے ساتھ شرط لگاتے اور جیت جانے کی امید رکھتے لیکن ہار جاتے کیوںکہ دو یا تین دن کے بعد بوٹنیو کے مطابق دو یا تین جہاز موریشیوس کے بندرگاہ پر کھڑے ہوجاتے لوگ حیران ہوجاتے کہ آخر کیسے وہ افق کے پار دیکھ لیتا ہے ،بوٹنیو اپنی اس حیرت انگیز ایجاد کے متعلق کہا کرتا تھا کہ جب کشتی سمندر میں تیرتی ہے تو فضا میں اپنے نقوش چھوڑ دیا کرتی ہے بس انہی نقوش کو پڑھ کر وہ اندازہ لگا لیتا ہے کہ جہاز کتنی دوری پر ہے اور کتنی تعداد میں ہیں وہ کہتا تھا کہ ان نقوش کو دیکھنا کوئ مشکل کام نہیں ہر شوقین شخص ہر لگن سے دیکھنے والا اسے دیکھ سکتا ہے،
آپنی ملازمت کے دوران 1778 سے 1782 ان چار سالوں میں اس نے موریشیوس کی طرف آنے والے 575 جہازوں کا بالکل ٹھیک ٹھیک اندازہ کیا لیکن باز اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ اس کی پیشگوئی پوری نہیں ہوتی تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعد میں پتہ چلتا تھا کہ وہ جہاز جزیرے کی طرف آ تو رہا تھا لیکن جزیرے کے کا پہنچ کر اس نے اپنا رخ تبدیل کیا،اپنے اس فن میں وہ ماہر ہوچکا تھا اب وہ چاہتا تھا کہ دنیا اسے پہچانے وہ حکومت فرانس سے رابطہ کرنا چاہتا تھا انہیں اپنے اس حیرت انگیز فن کے بارے میں بتا نا چاہتا تھا اب اس نے فرانس میں سمندری امور کے وزیر Marechal de Castries کو خط لکھا اسے اپنے اس حیران کن دریافت نوسکوپی کے بارے بتایا بوٹنیو کی خط ملنے کے بعد اس نے موریشیوس کے گورنر کو خط لکھا اور بتایا کہ بوٹنیو کے اگلی دو سال تک کی ساری پیشگوئیوں کی رکارڈ ںنائ جاۓ اور اس کی ہر پیشگوئی رجسٹر کی جاۓ،15 مئ 1782 سے اس کی پیشگوئیوں کا اندراج شروع ہوا اگلے دو سالوں تک مستقل طور پر سارے پیشگوئیاں رجسٹر کی گئیں،
بوٹنیو کے دو سالوں کی ساری پیشگوئیاں درست ثابت ہوئی اور موریشیوس کے گورنر جسے اب یقین ہو چکا تھا کہ بوٹنیو کے پاس ایک حیرت انگیز علم موجود ہے اس نے بوٹنیو کو ایک بڑے انعام اور سالانہ وظیفے کی پیش کش اس شرط پر کی کہ وہ اس دریافت کا راز بتاۓگا لیکن بوٹنیو نے اس پیش کش کو مسترد کردیا،
1782 میں موریشیوس کے گورنر نے Marechal جو فرانس میں سمندری امور کے وزیر تھے کو خط لکھا کہ اسے اس بات پر پورا پورا یقین ہے کہ بوٹنیو نے ایک ایسی فن دریافت کی ہے جس کے بدولت وہ سیکڑوں میل دور جہاز دیکھ لیا کرتاہے اس نے یہ بھی لکھا کہ یہ کسی سائنس یا مطالعے کا اصول نہیں بلکہ اس کی ساری سائنس بوٹنیو کی آنکھ میں محفوظ ہےدوستوں مسلہ کچھ یوں ہے کہ بوٹنیو نے موریشیوس کے گورنر کو 11 جہازوں کی آمد کی اطلاع دی اس وقت حالات بہت کشیدہ تھے اور انگلینڈ کی جانب سے حملے کا بھی خطرہ تھا جب بوٹنیو نے جہازوں کی آمد کی پیشگوئی کی تو گورنر نے ان جہازوں کی کھوج لگانے کیلئے ایک جنگی بیڑہ بیجھا مگر جہاز کے جانے کے بعد بوٹنیو نے خبر دی کہ ان گیارہ جہازوں نے اب اپنا رخ تبدیل کیا اور وہ بھیڑہ واپس آیا تو انہیں نے بھی کہا یقیناً 11 جہاز اس طرف آرہے تھے لیکن پھر انہیں نے اپنا رخ بدل لیا یہ سارا واقعیہ گورنر نے منسٹر کو لکھ کر بیجھا، شائد گورنر کا یہ خط منسٹر کے دفتر کبھی بہنچا ہی نہیں کیونکہ گورنر کو کبھی اس خط کا جواب ملا نہیں،بوٹنیو کو اپنے اس دریافت پر فخر تھا اب وہ چاہتا تھا کہ وہ خود جاکے فرانسیسی حکومت کو اپنی یہ نئ دریافت پیش کرے سو اسلۓ اس نے موریشیوس کو خیرآباد کہا اور فرانس جانے والے ایک جہاز پر سوار ہوا،فرانس جانے کےدوران اس نے جہاز کے کپتان کو سمندر میں موجود 27 جہازوں کا پتہ دیا ،اس سفر میں اسے علم ہوا کہ جیسے وہ زمین سے سمندر میں جہازوں کا پتہ لگالیتا ہے ویسے ہی وہ سمندری سفر کے دوران بھی پتہ لگا سکتا ہے اس نے جہاز کے کپتان کو یہ بھی بتایا کہ وہ خشکی سے کتنے دور ہیں،
13 جون 1784 کو بوٹنیو فرانس پہنچ گیا مگر وہاں حالات بہت ہی خراب تھے یہ انقلاب فرانس سے کچھ پہلے کا دور تھا بوٹنیو کو انعام کا لالچ تھا وہ حکومت سے اپنے اس علم کے بدلے انعام چاہتا تھا لیکن اس وقت فرانس کی حکومت اسے کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی نے بھی نہ تو بوٹنیو کی نہ اس کی دریافت کو توجہ دی اسے وہ عزت نہیں دی گئی جس کا اس کے خیال میں وہ حقدار تھا،
وہ سمندری امور کے وزیر سے ملنا چاہتا تھا لیکن ہر بار اسے یہی جواب ملتا کہ آپ کی دریافت پر غور کیا جارہاہےپھر اس کی ملاقات کسی اعلیٰ سرکاری عہدے والے سے ہوئ بوٹنیو نے اسے لاکھ کہا کہ اس کی پیشکش پر غور کیا جائے جس پر گورنر کے بھی خطوط موجود تھے جن میں اس نے خود اس پر یقین کا کہا تھا لیکن اس نے الٹا ہی بوٹنیو کا مزاق اڑایا اور کہا کہ افق سے پار دکھائی دینے والے دراصل جہاز نہیں ہوائی قلعے ہیں،
بوٹنیو ان سب پر بہت مایوس ہوا اور موریشیوس واپس آگیا یہاں اس کی 1813 میں موت ہوگئی،
دوستوں بوٹنیو نے اپنے فن نوسکوپی کی کوئ تحریر نہیں چھوڑی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت فرانس اس وقت اسے نظرانداز نہ کرتی اور اس فن کو سنجیدگی سے حاصل کرنے کی کوشش کرتی اور بوٹنیو کو اس کی قیمت ادا کردیتی تو انگلینڈ سے جنگ میں فرانس کامیاب ہوجاتا اور نپولین انگلینڈ فتح کر لیتا کیونکہ اگر نوسکوپی کا علم فرانسیسی کے پاس ہوتا تو نیلسن کا جنگی بیڑہ یوں بے خبری میں اچانک حملہ نہیں کر سکتا تھا فرانس اس سے پہلے اپنا دفاع مظبوط کرسکتا تھا،
یوں بوٹنیو اپنا یہ فن اپنے ساتھ قبر میں لے گیا لیکن بوٹنیو کے چند سال بعد موریشیوس کے جزائر میں ایک بوڑھا منظر عام پر آیا وہ یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ بھی نوسکوپی کا علم جانتا ہے جو اس نے بوٹنیو سے سیکھا تھا لیکن اسنے کبھی بھی اپنی صلاحیتوں کے بدلے حکومت سے کچھ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اپنے طاقتوں کے بارے زیادہ ہنگامہ کیا لیکن اس نے نوسکوپی کا یہ علم اپنے شاگردوں میں ایک خاتون کو سکھانے کی کوشش ضرور کی مگر اپنی اس کوشش میں وہ ناکام رہا اور وہ خاتون یہ علم کبھی نہیں سیکھ سکی اسکے بعد 1935 میں بھی ایک شخص نے نوسکوپی کا عالم ہونے کا دعویٰ کیا مگر حقیقت یہ ہے کہ بوٹنیو کے بعد کوئ بھی شخص اس فن میں اپنے زمانے کے لوگوں میں اس جیسی مہارت ثابت نہ کرسکا یوں حقیقی طور پر آج دنیا اس علم سے محروم ہے اور صرف اپنی غلطی کی وجہ سے ہے۔
دوستوں اس گمشدہ علم کی کہانی آپ کو کیسے لگی؟ آپ اس بیش قیمتی معلومات کو اپنے دوست احباب سے ضرور شئیر کجیئے شکریہ
تحریر؛ حسنین مغل@HasnainMughal99

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button