بلاگز

وہ اک حسینہ پری تھی __ تحریر حسن جتوئی

معصومیت اور حسین چھرہ جیسے شاید وہ پری تھی ، وہ ہمیشہ پاکدامن اور باحیاء رہتی تہی اس کی باتیں طلسمی تہیں ، وہ ٹوٹ کر چاہتی تہی ، وہ صرف وفا ہی چاہتی تہی ، وہ اک ایسی لڑکی تہی جو محبت کو جنون اور عبادت ، عقیدت ہی سمجھتی تھی ،وہ کوہ قاف کی شہزادی لگتی تھی جو آرمینا ، آذربائجان اور روس کے خوبصورت پھاڑوں میں رہتی تھی وہ لڑکی نھایت خوبصورت تھی جیسے شجر گلابوں کا جیسے چمن بھاروں کا ، جیسے چودہویں کی رات میں چمکتا ہوا چاندوہ ایسی لڑکی تھی جو فانوس کی طرح روشن تھی اس کی شباہت اور دلکشی سے لگتا تھا کہ شاید وہ مھاسندر پری ہے ، وہ لڑکی نازک اور حساس تھی جیسے سمندر اس کی دل کہ اندر ہو جیسے وہ جنت کی حور تھی وہ لڑکی غزالی آنکھوں والی تھی اس کی آنکھوں میں اک غزال تھی ، ہرن کی آنکھوں والی وہ لڑکی دودہ جیسی رنگت رکھتی تھی
وہ لڑکی اندہیری رات میں روشن دیپ کی مانند تھی وہ لڑکی سراپا حُسن تھی خوبصورتی کا اندازہ ایسے لگایا جاسکتا ہے جیسے وہ نیلے پانی کی جھیل ہو اور چاروں اطراف کنول کہ پھول کھلے ہوے ہوں وہ لڑکی پریوں جیسی تھی اس کی شکل و صورت سے معلوم ہوتا تھا جیسے وہ دریاء سندہ سے غسل کر آئی تھی جیسے وہ گنگا ، جمنا سے تن من وجود کو دہلائی کر آئی ہو ،وہ لڑکی مجھے پردے میں ایسی لگتی تھی جیسے کوئی الفردوس کی حور ہواس کی آنکھیں مجھے یوں کھینچ لیتے تھیں جیسے آنکھوں میں کوئی جادوئی اثر ہو اور وہ شھزادی ملکہ بینظیر لگتی تھی وہ لڑکی ایسی تھی جیسے کشمیر کی سرزمین ہو یا پہر تھر کی محبت والی مٹی ،عقیدت اس طرحہ کی جیسے کوئی پنڈت اپنے بگوان کی پوجا کرتا ہو جیسے کوئی قاضی اپنے محبوب کو مانتا ہو جیسے کوئی صوفی اپنی دنیا میں مست مگن ہو وہ لڑکی پاکیزہ تھی وہ لڑکی خوابوں کی دنیا میں رھتی تھی اس کی دنیا میں محبت اور وفا ہی مذہب کا نام تھاوہ لڑکی ایسی تھی گویا چمکتے ہوے ستارے آفتاب پہ نمایاں ہوں یا پہر کنول کے پھول چودہویں کی رات میں مھک اٹھے ہوں وہ لڑکی حساس اور جذبات والی تھی اس کہ بدن سے خوشبو مشک زعفران جیسی آتی تھی جیسے وہ لڑکی حنا مھندی کی طرح رنگ رچانا چاہتی تھی اپنی محبت کا ،وہ لڑکی اک ایسا غزل تھی جس کا عنوان طالب مطلوب جیسا تھا کھیں خد ہی ڈوبی ہوئی تھی کھیں خد ہی روشن صبح کی کرن تھی وہ لڑکی ایسی تھی جیسے کوئی شبنم ہو شاید وہ ایسی تھی جیسے کوئی شمع ہو جو وفا کی روشنی کرنا چاہتی ہو
وہڑکی شرمیلی سی تھی جو بات بات پہ شرما جاتی جیسے چاند فلک سے زمین پہ اتر آیا ہو سچ کھوں تو وہ لڑکی کل کائنات جیسی تھی جیسے حسن کی دیوی نے اس کو فرصت سے بنایا ہو جو شاید ہزاروں سالوں تک راستوں کو روشن کرتی رہی ہو کبھی کبھار لگتا تھا وہ لڑکی پری زاد تھی @officialhassanj

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button