بلاگز

مشترکہ خاندانی نظام اور ہم

مشترکہ خاندانی نظام
مشترکہ خاندانی نظام افراد کے مل جل کر رہنے سے تشکیل پاتا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں کنبے کے تمام زی روح ایک ہی چھت تلے رہتے ہیں۔ گئے وقتوں میں پاکستان میں مشترکہ خاندانی نظام عام تھا، اور بیشتر بلکہ تمام لوگ ہی اسی نظام کا حصہ تھے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں عموما ماں، باپ گھر کے بڑے ہوتے تھے اور باقی تمام افراد کو جوڑ کر ہنسی خوشی مل کر رہتے تھے۔ گھر کا ایک سربراہ ہوتا تھا جو گھریلو معاملات کو دیکھتا تھا اور تمام معاملات احسن طریقے سے سنبھال لیتا تھا۔ گھر کے تمام اخراجات، لین دین کے معاملات سب کچھ اسی کی زمہ داری ہوتی تھی، اور گھر کے باقی افراد ہر فکر سے آزاد ہوتے تھے۔
لوگوں میں خلوص اور پیار تھا سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ، خوشی غمی میں شریک ہوتے تھے۔ بچے اور بڑے سب بزرگوں کا احترام کرتے تھے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں گھر کے بڑے بچوں کی تربیت پر بہت زیادہ توجہ دیتے تھے، ان کو وقت دیتے تھے، پیار محبت بھی خوب دیتے تھے۔ لیکن بچوں کی غلطیوں پر ان کو ڈانٹ دیا جاتا تھا، ان میں اخلاقی قدریں پروان چڑھائی جاتی تھی۔ بدتمیزی اور بد تہذیبی دیکھنے کو بھی نہیں ملتی تھی۔ بزرگوں کی رائے کا احترام کیا جاتا تھا آپس میں رشتے محبت کی ڈوری سے بندھے ہوئے تھے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں ہر فرد کو اپنی زمہ داری کا احساس ہوتا تھا۔

لیکن پھر جیسے جیسے مادی ترقی ہوتی گئی، خاندان اور خاندانی نظام پس پشت چلا گیا۔ خاندان کا نظام مغربی کی تقلید میں تباہ ہو کر رہ گیا، معاشرتی قدریں بگاڑ کر رہ گئیں۔ گھر کا ہر ایک فرد زاتی گھر تعمیر کرنے کے قابل ہو گیا اور مشترکہ تعمیر شدہ خاندان توڑ پھوڑ کا شکار ہوتے گئے۔ پیسے کی ریل پیل کے آگے خاندان کی اہمیت کم ہوتی گئی۔ پرائیویسی کے مسائل سر اٹھانے لگے، مشترکہ خاندانی نظام ترقی کی راہ میں رکاوٹ اور زاتی زندگی میں مداخلت سمجھا جانے لگا۔ اور لوگ الگ ہو کر آزادی سے رہنے لگے۔

مشترکہ خاندانی نظام اور الگ رہنا، لوگ دونوں کی مخالفت اور حق میں دلائل دیتے ہیں۔ دونوں طرح کے نظام صحابہ کرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز زندگی سے ثابت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام ازدواج مطہرات کے لئے الگ حجروں کا بندوبست کیا ہوا تھا، بہت سے صحابہ کرام خاندان کے ساتھ رہتے تھے اور بہت سے الگ بھی رہتے تھے، لیکن کوئی بھی خاندان سے غافل نہیں تھا۔ سب محبت اور احساس کے جزبے سے جڑے ہوئے تھے۔

مشترکہ خاندانی نظام میں رہنا لوہے پر لکیر نہیں ہے۔ دونوں طرح کے نظام زندگی کے اپنے فوائد و نقصانات ہیں۔ بعض لوگ الگ ہو کر رہنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو وقت دینا اور سمجھنا چاہتے ہیں، لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ خاندان کے ساتھ رہنے میں ہی بھلائی یے۔ الگ رہنے میں آپ پر بہت زیادہ زمہ داریاں ہوتی ہیں۔ سب کچھ خود دیکھنا اور سنبھالنا پڑتا ہے۔ الگ رہنااور بچوں کو سنبھالنا کافی مشکل کام ہے۔ اور یہ سچ بھی ہے کہ الگ گھروں میں رہنے والے بچے مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ وہ تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بچے اپنے ماحول کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ الگ رہنے والے بچوں کو خاندانی اور اخلاقی قدریں سمجھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ماں باپ اپنی مصروفیات میں مگن رہتے ہیں اور ان کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے۔ پہلے مشترکہ خاندانی نظام میں گھر کے بڑے بچوں کو سنبھال لیتے تھے لیکن اب وہ ملازمین کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ وہ تنہائی کا شکار رہتے ہیں اور پائیدار رشتے نہیں بنا پاتے جو مضبوط خاندان کے لیے ضروری ہیں۔

مشترکہ خاندانی نظام میں ماں باپ اولاد کے لیے اور اولاد ماں باپ کے لیے وقف نکال لیتے تھے، ایک دوسرے کے مسائل سنے جاتے تھے۔ مسائل مل جل کر حل کئے جاتے تھے۔ اپنائیت تھی، خلوص اور اعتبار تھا لیکن اب علیحدہ رہنے کی وجہ سے مہینوں لوگ اپنے ماں باپ کی شکل تک نہیں دیکھتے۔ والدین بچوں کو پال پوس کر بڑا کرتے ہیں لیکن اگر وہی بچے بڑے ہو کر یہ کہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ نہیں رہنا تو یہ والدین کے ساتھ زیادتی ہے۔
مصروفیات، وقت کی کمی کا بہانہ اور ترجیحات میں تبدیلی کی وجہ سے بہت کچھ یکسر طرح نظر انداز کیا جاتا ہے۔ لوگ اب موبائل فون اور سوشل میڈیا وغیرہ پر رابطہ کرنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔

مشترکہ خاندان میں رہنے کے بھی اپنے مسائل ہیں۔ بعض اوقات مشترکہ خاندانی نظام میں ہونے والے جھگڑے سنگین نوعیت اختیار کر جاتے ہیں۔ خاندانی نظام میں گھریلو جھگڑے، سسرالی رشتہ داروں میں نہ چاکی ،عدم برداشت وغیرہ عام ہو جاتے ہیں جو رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں جس سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں، جن میں طلاق وغیرہ شامل ہے۔ پاکستان میں کوئی علیحدہ رہنا چاہیں تو انہیں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غلط سمجھا جاتا ہے۔الگ رہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے والدین کو بھول جائیں اور ان سے بالکل لاتعلق ہوجائیں۔ مشترکہ خاندانی نظام میں لڑائی جھگڑوں اور ناچاقیوں کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے، آپ الگ ہو کر رہیں، ایک دوسرے کا عزت و احترام کریں، اور لحاظ نہ بھولیں۔ اخلاقی اور خاندانی اقدار کو پروان چڑھائیں اور مظبوط رشتے قائم کریں۔ اسی میں انفرادی اور معاشرتی بقا ہے۔

تحریر: فاروق زمان

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button