بلاگز

معصوم عہد کی آخری نسل

جدید ترین ٹیکنالوجی کا یہ دور جس کے تقاضے بھی جدید ہیں ہمارے بچوں کو وقت سے پہلے ہی ذہنی بلوغت کی سوغات دیتا جا رہا ہے اور ہم اس بات سے بے خبر ہیں یا پھر انجان بننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دور حاضر کے بچے ٹیکنالوجکل انٹیلیجنٹ بننے کے ساتھ ساتھ وقت سے پہلے ہی دماغی طور پر جوان ہوتے جارہے ہیں۔ بچوں کو موبائل کا استعمال آنا چاہیے ، بچوں کو کمپیوٹر کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے اس چکر میں ہم یہ بھول گئے کہ یہ مشینیں ہمارے بچوں کی معصومیت کتنی بے رحمی سے نگل چکی ہیں۔
ہمارے بچپن کیسے ہوتے تھے ؟ آئیے کچھ دیر کو ماضی میں چلیں۔ اسکول جاتے ہوے جب پرچون یا بیکری سے ابو بسکٹس دلاتے تو دوکان کے آگے پانی سے چھڑکاؤ نظر آتی ساتھ دو اگر بتیاں دوکان کو مہکا رہی ہوتیں اور سورہ یاسین یا اور رحمٰن کی تلاوت لگی ہوتی ۔ سکول میں چیخ چیخ کر ترانہ پڑھ کر ایک الگ کی خوشی محسوس ہوتی تھی۔ شام میں جب چائے بنتی تو امی لمبے پاپڑ اکثر تلا کرتیں تھیں ۔ ٹام اینڈ جیری جیسے کارٹونز دیکھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے ۔۔۔۔ باہر کھیلنے جاتے تو اونچ نیچ کا پہاڑ ، پکڑم پکڑائی ، بھنٹا ایمپریس اور برف پانی جیسے کھیل کھیلا کرتے ۔۔۔ گولے گنڈے والا ، قلفی والا ، گڑیا کے بال بیچنے والا اور مونگ پھلی والا بچوں کے پسندیدہ ہوتے تھے ۔۔۔ ٹن ٹن کی آواز سن کر تیزی سے بھاگتے ایک بچے کا کام انکل کو روکنا اور باقی سب کا کام گھر سے پیسے لانا ہوتا تھا ۔۔۔ محلے کے بدمعاش بچے کنچے کھیلا کرتے تھے جن کے ساتھ شریف بچوں کے امی ابو کھلنے سے منع کرتے تھے ۔۔۔ قاری صاحب یا سپارے والی باجی کے آگے ہمارے ایک نہیں سنی جاتی تھی ۔ بلیو بینڈ مارجن ٹوسٹ پر لگا کر ٹفن میں رکھنا اور ساتھ ایک سیب سب سے صحت بخش لنچ سمجھا جاتا تھا ۔ بلیو ربن میں دو چوٹیاں کس کی بندھی ہوتی تھیں اور لڑکوں کی پینٹ تقریباً سینے پر بندھی ہوتی تھی ۔۔۔ کیا معصوم بچپن تھا ۔۔۔ کیا آپ جانتے ہیں اس وقت کے تیس سے پینتیس سال والے افراد معصوم عہد کے آخری افراد ہیں ۔۔۔ یہ آخری نسل ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے بھنور میں پھنسے بغیر اپنے بچپن انجوائے کر کے آئی ہے ۔

اگر اس پرانے بچپن سے آج کے بچوں کا موازنہ کیا جائے تو گھڑی اینٹی کلاک وائس چلتی محسوس ہوگی ۔۔۔۔ ٹی وی پر ایک سے ایک پر فتن ڈرامے پھر موبائل کی علت ایسی کے موبائل جائے تو جان جائے والی مثل ۔۔۔ صبح اٹھ کر سب سے پہلے موبائل فون چیک کرنا نئے سے نئے گیمز ۔۔۔ پھر کروانا نے ایجوکیشن بھی آن لائن کر دی تھی تو جو دور تھے وہ بھی اس موبائل کے قریب آگئے ۔۔۔ جسمانی کھیل تقریباً ختم تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بچوں کے دماغ جوان اور جسمانی نشونما ایب نارمل ۔۔۔بچوں میں چھوٹے قد آور موٹاپے کے مسائل حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ مگر ہماری توجہ ان سب باتوں سے پرے بچوں کے بہترین مارکس پر مرکوز ہے ۔۔۔ اب دوستیاں اسٹیٹس دیکھ کر ہوتی ہیں۔ بچوں میں خود غرضی کا یہ عالم ہے کہ کلاس میں کم نمبر لانے والے بچے کو اپنا دوست بنانا اپنی شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے ۔۔ آج کے پانچ سے دس سالہ بچے اپنے والدین کو کہتے ہیں آپ کو کیا پتا لائیں میں بتاؤں آپ کو کہ یہ گیم کیسے کھیلتے ہیں ، ایک آٹھ سالہ بچی ماں کو ڈرامے کی اگلی قسط میں ہونے والے واقعات ایسے بتا دیتی ہے جیسے یہ ڈرامہ اس نے خود لکھا ہو ، اب نیٹفلکس بچوں کی پسندیدہ دوست ہے ۔ سمجھدار بننے کی دوڑ میں بچے چالاک بنتے جا رہے ہیں اور والدین کو ہوش ہی نہیں۔ ہائپر ایکٹو جو ایک نارمل اسٹیٹ ہی نہیں والدین فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ہائپر ایکٹو ہے ۔۔۔ آج کے بچوں کو کیا معلوم کے بچپن کی انجوائے منٹ کیا ہوتی ہے یا معصوم بچپن کسی کہتے ہیں ۔۔۔ کیوں کہ ہم نے انہیں موبائل کے حوالے کر دیا ۔۔۔ آج موبائل ہی بچے کی ماما اور پاپا ہے۔۔۔ پانچ ماں کا بچہ کیمرہ دیکھ کر مسکراتا ہے تو ماں واری صدقے ہو جاتی ہے۔۔۔ یہ سب ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے ۔۔۔
اس ضمن میں گزارش و عرض یہ ہے کہ ۔۔۔ معصوم عہد کی آخری نسل اپنی زمہ داری نبھائیں ۔۔۔ بچوں کو قدرتی بچپن سے جوڑیں ۔۔۔ موبائل کے بجائے انہیں زہنی و جسمانی مشقت والے کھیلوں میں مصروف کریں ۔۔۔ بہت چھوٹے بچوں کو موبائل سے دور رکھیں ان کی معصومیت کو برقرار رہنے دیں ۔۔۔ یہ مشینی زندگی انہیں ایک روبوٹ بنا رہی ہے ۔۔۔ اپنے بچوں کو مشین بننے نہ دیں۔۔۔ کیوں کہ مشین کے احساسات نہیں ہوتے ۔۔۔ اور جب آپ کی بچے میں احساس نہیں ہوگا تو وہ بےحس بنے گا، بے حسی انسان کو خود غرضی میں مبتلا کرتی ہے اسی لیے جب دور حاضر میں والدین بچوں کے کام کے نہیں رہتے تو انہیں اولڈ مین اور اولڈ ویمین کہہ کر اولڈ ہاؤسز میں ڈال دیا جاتا ہے ۔۔۔ بے شک یہ طریقہ مغرب میں عام ہے مگر مشرق میں بھی اس کی ہوائیں چلنا شروع ہوگئی ہیں ۔۔ اپنے بچوں کے بچپن کو بچائیں مشینیں آپ کے بچوں سے معصومیت چھین رہی ہیں ۔
وما علینا الاالبلاغ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button