بلاگز

پارک کہانی‎‎

سردیاں شروع ہوتے ہی یا یوں کہیے کہ جب کبھی حبس یا چلچلاتی دھوپ نہ ہو تو میرے گھر کے قریب واقع پارک میں خوب چہل پہل اور رونق دیکھنے کو ملتی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں موسم کو دیکھ کر ہی گھر سے باہر جایا جا سکتا ہے۔ سمندر کے کنارے رہنے کی وجہ سے شدید حبس ہوتی ہے گرمیوں میں، یا پھر اتنی گرمی کہ بس بچے بڑے سب گھر کے اندر ہی رہتے ہیں یا حسب ضرورت آفس، سکول، مال یا جم جاتے ہیں۔میری سات سالہ بیٹی پچھلے سال سردیوں میں بڑی معصومیت سے برف باری کا انتظار کر رہی تھی۔ اسے بتایا کہ یہاں برف نہیں پڑتی اور نہ ہی سخت سردی، بلکہ سردیوں میں موسم محض خوشگوار ہوتا ہے۔  
آج کل موسم انتہائی خوش گوار ہے۔  اور سکولوں میں سردی کی چھٹیاں ہیں۔ میرے گھر کے نیچے (1st floor) پہ واقع پارک بچوں اور بڑوں سے بھرا ہوتا ہے۔ عربی، پاکستانی، انڈین اور افریکن خواتین گروپس میں بیٹھ کر گپ شپ، چائے یا کبھی تو ون ڈش کے مزے اڑاتی نظر آتی ہیں۔ باقی بھی بہت سی نیشلیٹی کے لوگ (چائنیز، فلپینو، بنگلا دیش، روس، ایران، تاجکستان، وغیرہ) نظر آتے ہیں مگر تعداد میں کم۔کہیں بچے فٹ بال کھیلتے نظر آئیں گے، تو کہیں سائیکل چلاتے۔ کچھ بچے ایلیکٹرک سکوٹر چلاتے نظر آئیں گے تو کچھ سکوٹیز۔ چھوٹے بچے ٹرائ سائیکل یا کار چلاتے نظر آئیں گے۔ کچھ بچے رولر سکیٹس میں بہترین توازن کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔انہیں میں بعض خواتین اور مرد حضرات واک بھی کرتےملیں گے۔اسی پارک میں چھوٹی سی مسجد، جم، سوئیمنگ پول، کراٹےاور جمناسٹک حال، کیفے اور ایک لینگیوئج انسٹیٹیوٹ بھی ہے۔اسی گہما گہمی میں کچھ بچے کراٹے کھیلتے، سوئیمنگ کر کے باہر جاتے دکھیں گے۔ اسی طرح جم اور لینگئویج والے افراد بھی مصروف دکھائی دیتے ہیں۔نماز کا وقت ہو تو ایک خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ بوڑھے، جوان اور بچے پارک میں موجود مسجد کی طرف جاتے نظر آتے ہیں۔
محمد عمر جو کہ ابھی تین سال کے ہیں اپنی گاڑی سے خوب کھیلتے ہیں۔ اور اپنے ہم عمر بچوں سے بلاجھجک بات چیت کرنے لگتے ہیں۔ کسی بھی بچے کو دیکھتے ہی کہتے ہیں “Les payyyy”   مطلب lets play.آج ایک پانچ یاچھ سالہ بچہ سائیکل چلاتے ہوئے گر گیا تو موصوف کہنے لگے”“aa u otay” مطلب “are you ok”. سب کی خیر خبر رکھتے ہیں۔ آج تو نصیحت بھی کرنے لگے۔ ایک 2-3 سالہ بچہ کوڑے کے ڈرم سے کھیل رہا (جی ہاں چھوٹے بچوں سے آپ کسی بھی انوکھے کام کی توقع کر سکتے ہیں) تو عمر کہنے لگے “don do tha، iss dihtyyy”  مطلب “don’t do that its dirty”میری بیٹی بھی اپنی ہم عمر  بچیوں کے ساتھ کھیلتی ہے۔ گھر آتے ہی ان کے لئے کارڈز بناتی ہے۔ دوسرے دن ان کو دیتی ہے۔ جوابا” وہ بچیاں بھی کارڈ بنا کہ اس کو دیتی ہیں۔ یہ بچوں کا ایک دوسرے سے انسیت کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔  
اس گہما گہمی اور خوش گوار ٹھنڈ میں سردیوں کی مدھم روپیلی دھوپ کا مزا ہی کچھ الگ ہے۔ اب روز پارک جانا ہوتا ہے اس دھوپ کے لئیے۔ کبھی سورج بادلوں میں چھپتا ہے تو کبھی اس کی کرنیں جیسے روح تک کو سرشار کر رہی ہوں۔ اور پھر تانبے جیسا چمکتا آہستہ آہستہ مغرب کی جانب غروب ہو جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button